سنت رسول
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو جائے گا پس اجنبیوں کو مبارک کی ہو ) اس حدیث میں دین کے اجنبی ہونے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام لوگ نماز پڑھنا چھوڑ دیں گے یا کوئی حج کرنے والا باقی نہیں رہے گا۔ دوسری احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نماز روزہ کرنے والے لوگ آخر وقت تک دنیا میں باقی رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ اس میں دین کے اجنبی ہونے سے مراد وہی چیز ہے جس کی ایک مثال مذکورہ واقعات میں نظر آتی ہے۔ یعنی چٹائی پر کھانا کھانے کی سنت لوگوں کے لیے معروف ہو مگر ایفائے وعدہ اور صبر و اعراض کی سنت لوگوں کے کے لیے اجنبی بن جائے۔ بعض چیزیں وہ ہیں جو با اعتبار حقیقت سنت ہیں نہ کہ باعتبار ظاہر ۔ ایسے معاملات میں مسلمانوں نے بس ظاہری صورت کو پکڑ لیا ہے اور سمجھتے ہیں کہ وہ سنت پر عمل کر رہے ہیں ۔ حالاں کہ ان معاملات میں سنت ایک حقیقت کا نام تھا نہ کہ ایک ظاہری صورت کا ۔ مثال کے طور پر ذکر کو لیجے موجودہ زمانہ میں بے شمار مسلمان ہیں جو کچھ الفاظ کو یاد کر کے صبح و شام ان کی تکرار کرتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ مسنون اذکار پر عمل کر رہے ہیں ۔ حالانکہ مسنون اذکار مسنون کیفیات کا نام ہیں نہ کہ محض کچھ الفاظ اور کچھ جملوں کا نام مسنون اذکار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر حقیقتہ خدا کی یاد ہوتا تھا ۔ آپ پر ہر وقت اللہ کی یاد کا غلبہ رہتا تھا۔ اس کیفیت کے ایک ظاہری نتیجہ کے طور پر کچھ الفاظ آپ کی زبان سے نکل پڑتے تھے ۔ یہ الفاظ بلا شبہ ذکر تھے۔ مگر وہ اپنی اندرونی حقیقت کی بنا پر ذکر رکھتے۔ نہ کہ محض اپنے ظاہری تکلف کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی نہایت گہری معرفت حاصل تھی۔ حدیث میں آپ کو دائم الفکرہ کہا گیا ہے ۔ یعنی آپ ہر وقت خدا کے فکر میں ڈوبے ہوئے رہتے تھے۔ آپ کو اللہ کی بے پایاں نعمتیں یاد آتیں اور آپ شکر کے جذبے سے سرشار ہوجاتے ۔ آپ اللہ کی عظمتوں کا تصور کرتے اور آپ کا سینہ اللہ کی بڑائی کے احساس سے بھر جاتا ۔ اس وقت بے اختیار آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہو جاتے : سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم یہ تھا آپ کا ذکر ۔ آپ کا ہر ذکر ایک قلبی حالت کا ترجمان ہوتا تھا ، اور یہی حقیقت ہے ان تمام اذکار کی جن کو مسنون اذکار کہا جاتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader