Urdu book · دین کامل

نبوت اور ختم نبوت

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

بحیثیت انسان جو کچھ سوچ سکتا تھا سوچ چکا تھا۔ اس لئے ساتویں صدی ہی موزوں و مناسب صدی تھی جب کہ نوع انسانی کے لئے آخری اور مکمل رہنمائی بھیج دی جائے۔ اس ارتقائی نظریہ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ اول، ساتویں صدی عیسوی میں عقل انسانی کا بلوغ کے مرحلہ تک پہنچنا۔ دوم، اس بلوغ کی بنیاد پر مکمل آسمانی ہدایت کا نزول۔ مگر یہ دونوں باتیں سراسر مفروضہ ہیں، وہ ثابت شدہ واقعہ نہیں۔ متعلقہ انسانی علوم بلوغ“ کے مذکورہ نظریہ کی بالکل تائید نہیں کرتے۔ مثلاً فلسفیانہ علم کو لیجئے۔ یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ ساتویں صدی عیسوی تک فلسفیانہ علم اپنے بلوغ کی منزل تک پہنچ چکا تھا۔ کیوں کہ فلسفیانہ تعقل کی تاریخ بتاتی ہے کہ فلسفہ اس وقت قیاسی منطق کے دور میں تھا جب کہ بیسویں صدی میں، مورخین فلسفہ کے نزدیک، وہ سائنسی منطق کے دور میں پہنچ گیا ہے۔ بلوغ“ کا دوسرا پہلو خود انسان کی عقلی صلاحیت سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر اس پہلو سے بھی صورت حال مذکورہ نظریہ بلوغ کے مطابق نہیں۔ کیوں کہ علم الحیات اور علم الانسان واضح طور پر بتاتے ہیں کہ دس ہزار سال پہلے کا انسان بھی عین وہی ذہنی صلاحیت رکھتا تھا جو آج کے انسان کو مسلمہ طور پر حاصل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوغ اور ارتقا کا مذکورہ نظریہ نہ صرف غیر قرآنی اور غیر علمی ہے بلکہ وہ نہایت مخدوش بھی ہے۔ یہ نئی نبوت کا دروازہ کھولنے والا ہے، چنانچہ موجودہ زمانہ میں بہائی مذہب اور قادیانی مذہب دونوں اسی مفروضہ تصور کی زمین پر ابھرے ہیں۔ دونوں کا کہنا ہے کہ چونکہ زمانہ ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے ایک نئے تمدنی دور میں پہنچ گیا ہے اس لئے ضروری ہو گیا ہے کہ نئے حالات کے اعتبار سے رسالت خدا وندی کا نیا ظہور عمل میں آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ پیغمبر کے ظہور کو بلوغ انسانی کے مذکورہ ارتقائی نظریہ کے ساتھ جوڑیں تو اس کے بعد نئی نبوت کے دعویٰ کو منطقی طور پر غلط قرار دینا مشکل ہو جائے گا۔ کیوں کہ خالص علمی اعتبار سے تمام پیغمبر "روایتی دور میں آئے۔ اب جب کہ دنیا سائنسی دور“ سے گزر رہی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس نظریہ کے مطابق ، نیا پیغمبر نہ بھیجا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت کا تعلق تمام تر حفاظت نبوت سے ہے، اس کا عقلی بلوغ یا دینی ارتقا کے مفروضہ نظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔ پیغمبرانہ ہدایت جب محفوظ ہو جائے تو اس کے بعد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page