پیغمبر آخرالزمان کا ظہور
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر آخر الزماں کا ظہور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ میرے کئی نام ہیں۔ ان میں سے یہ ہے کہ میں مٹانے والا ہوں ، اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹائے گا۔ ( ان لى اسماء ۔۔۔۔۔ وانا الماحی الذي يمحو الله بي الكفر ، متفق عليه ) خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی دین کے حامل تھے۔ مگر آپ سے پہلے آنے والے پیغمبروں کی حیثیت " داعی " کی تھی۔ یعنی خدا کے دین سے بخوبی طور پر لوگوں کو باخبر کر دینے کے بعد ان کی ذمہ داری ختم ہو جاتی تھی۔ مگر پیغمبر اسلام داعی کے ساتھ ماحی بھی تھے۔ دعوت توحید کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر بھی مامور کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے آپ توحید کی دعوت کو عمومی فکری انقلاب تک پہنچا دیں۔ دین خداوندی کو دعوت کے ساتھ ایک تاریخ بھی بنا دیا جائے ۔ یہ دوسرا واقعہ کامل طور پر انجام پايا، حتی کہ وہ تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ بن گیا ۔ تمام مورخین نے تسلیم کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو انقلاب آیا وہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے انوکھا انقلاب تھا۔ اصر و اغلال اصحاب رسول پورے عالم انسانی کے لیے بمنزلہ مقدمۃ الجیش تھے۔ انھوں نے اپنے لیے اور اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے، قرآن کی زبان میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ اے ہمارے رب ، ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پہلے لوگوں پر ڈالاھتا۔(البقره ٢٨٦) اس کے جواب میں صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قد فعلت قد فعلت ( میں نے ایسا کر دیا ، میں نے ایسا کر دیا) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت محمدی کا ظہور انسانی تاریخ میں نئے دور کا آغاز ہے جب کہ انسان کے اوپر سے اس بوجھ کو آخری طور پر اتار دیا گیا جو اس نے اپنے اوپر لاد رکھا تھا۔ پیغمبر اسلام کا دین بھی عین وہی تھا جو پہلے تمام پیغمبروں کا دین تھا۔ اصل دین کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader