Urdu book · دین کامل

پیغمبر آخرالزمان کا ظہور

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

اعتبار سے آپ میں اور دوسرے پیغمبروں میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ یہ فرق ہے کہ پہلے پیغمبروں کے زمانہ میں خدا کے دین رحمت کی دعوت صرف دعوت کے مرحلہ تک رہی، وہ عمومی فکری انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہونچی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں ایسا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے آپ کی دعوت توحید کو عملی تبدیلی اور فکری انقلاب کے مرحلہ تک پہونچا دیا گیا۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کے معاملہ کو بتاتے ہوئے ارشاد ہوا ہے : ويضع عنهم اصرهم والاغلال اور وہ ان پر سے وہ بوجھ اور قیدیں اتارتا ہے التي كانت عليهم (الاعراف (۱۵۷) جو ان پر تھیں ۔ اس آیت کے مطابق پیغمبر اسلام نے انسانیت کو دو چیزوں سے نجات دی ہے ۔ ایک اصر، اور دوسرے اغلال ۔ یہ اصر اور اغلال مختلف قسم کی تھیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ انسانیت کو نجات دلائی۔ یہاں ہم اس کے جس پہلو کا ذکر کر رہے ہیں ، اس کے لحاظ سے، اصر سے مراد وہ توہمات (Superstitions) ہیں جو قدیم زمانہ میں انسان کے اوپر چھائی ہوئی تھیں اور جن کی وجہ سے وہ اس چیز سے محروم ہو گیا تھا جس کو موجودہ زمانہ میں سائنٹفک نقطہ نظر کہا جاتا ہے ۔ اور اغلال سے مراد قدیم طرز کا وہ بادشاہی نظام ہے جس کو ہنری پرین نے مطلق شہنشاہیت (Emperical absolutism) سے تعبیر کیا ہے ۔ سیاسی جبر کے اس نظام نے انسانیت کو حاکم اور محکوم کے دو انتہائی طبقوں میں بانٹ دیا تھا اور انسانیت کے اوپر ہر قسم کی ترقیوں کا دروازہ بند کر رکھا تھا ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ ان دونوں قسم کی برائیوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ۔ سائنسی دور کا آغاز شرک در اصل مظاہر فطرت کی پرستش کا دوسرا نام ہے ۔ فطرت کی پرستش کا یہ ذہن ترقیات کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا ۔ کیوں کہ ترقی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب کہ مظاہر فطرت کو تحقیق کا موضوع بنایا جائے ۔ اور آدمی جس چیز کو پرستش اور تعظیم کا موضوع بنائے ہوئے ہو ، اسی چیز کو بیک وقت وہ تحقیق و تفتیش کا موضوع نہیں بنا سکتا ۔ سائنسی طرز فکر یا صنعتی انقلاب کی طرف انسان کا سفر اس وقت شروع ہوا جب کہ دنیا سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page