Urdu book · دین کامل

پیغمبر آخرالزمان کا ظہور

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

شرک کے غلبہ کو ختم کیا گیا اور توحید کے دور کا آغاز ہوا۔ یعنی انسان نے یہ جانا کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب مخلوق ہے نہ کہ معبود۔ وہ قابل تعظیم نہیں ہے بلکہ قابل تسخیر ہے۔ یہ چیزیں انسان کے لیے ہیں نہ کہ انسان ان چیزوں کے لیے ۔ دور شرک کے خاتمہ اور دور توحید کے آغاز نے علم انسانی کو یہی تہہ دیا۔ اور یہ کارنامہ وہ ہے جو سب سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انجام پایا۔ ماضی میں خدا کے جتنے رسول آئے سب اسی لیے آئے کہ انسان کو شرک کی گمراہی سے نکالیں۔ اس کو مخلوق کی پرستش کے بجائے خدا کی پرستش کرنے والا بنائیں۔ مگر ان پیغمبروں کا کام صرف اعلانِ توحید پر ختم ہوتا رہا، وہ انقلاب توحید تک نہیں پہنچا۔ تمام پیغمبروں کا مشترکہ طور پر ایک ہی مشن تھا________ شرک کا ابطال اور توحید کا اثبات۔ مگر ان کی کوششیں اس معاملہ میں فکری اعلان تک رہیں، وہ فکری انقلاب تک نہیں ہو پہنچیں ۔ چوں کہ اللہ تعالی کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم کرنا تھا، اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی زندگی میں اس مشن کی تکمیل ہو۔ ابطال شرک اور اثبات توحید کا یہ مشن آپ کے ذریعہ عملی انقلاب تک پہونچایا جائے ، وہ صرف نظریاتی اعلان پر ختم ہوکر نہ رہ جائے ۔ مثال کے طور پر انسان اپنے گرد و پیش جو مظاہر دیکھتا ہے ان میں سے ایک مظہر وہ ہے جس کو سورج گرہن اور چند گرہن کہا جاتا ہے۔ یہ مظاہر ہر زمانہ کے انسان کو متحیر کرتے رہے ہیں۔ قدیم زمانہ کے انسان نے ان کے بارہ میں بڑے عجیب عجیب نظریات قائم کر لیے تھے۔ مثلاً ایک خیال یہ تھا کہ زمین پر جب کسی بڑے آدمی (مثلاً بادشاہ) کی موت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے آسمان میں سورج گرہن اور چند گرہن واقع ہوتے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں عرب کے حکمراں ہو چکے تھے ۔ آپ کے چھوٹے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا۔ اتفاق سے عین اسی روز سورج گرہن پڑا۔ اس وقت قدیم ذہن کے تحت کچھ لوگوں نے کہا کہ پیغمبر (بادشاہ عرب) کے لڑکے کا انتقال ہوا ہے اس لیے آج یہ گرہن پڑا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو فوراً لوگوں کو جمع کیا اور تقریر کرتے ہوئے اعلان فرمایا : ان الشمس والقمر ایتان من آیاتِ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں اللہ عز وجل لاینکشفان لموت احد ہیں۔ ان کا گرہن کسی شخص کی موت بازندگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page