پیغمبر آخرالزمان کا ظہور
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
کی وجہ سے نہیں ہوتا ۔ وللحياة ته محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ تقریر کی ۔ اس وقت وہ ملک کے بادشاہ تھے ۔ اس لیے آپ کی یہ تقریر محض ایک وعظ نہ تھی ۔ بلکہ وہ ایک حکومتی ہدایت نامہ رکھتی ۔ وہ صرف اظہار مسئلہ نہ تھا، بلکہ وہ اعلان انقلاب تھا۔ چنانچہ ( ادھر آپ نے یہ اعلان کیا ، اُدھر تاریخ بدلنا شروع ہوگئی ۔ سماجی انقلاب پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف توحید کا اعلان کیا ۔ دوسری طرف اللہ کی خصوصی مدد سے خلاف توحید نظام کو عملاً توڑ دیا۔ آپ کے مشن کی اس خصوصی نوعیت کو قرآن و حدیث میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ قرآن میں آپ کو اور آپ کے اصحاب کو حکم دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے ( وقاتلوهم حتی لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله ) پیغمبر آخر الزماں کی بعثت کی نوعیت کو بتاتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ : اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے ( هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ) روایات میں آتا ہے کہ قادسیہ کے معرکہ کے دوران حضرت ربعی بن عامر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سپہ سالار رستم کے دربار میں گئے ۔ رستم نے گفتگو کے وقت پوچھا کہ تم لوگ یہاں کیوں آئے ۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم کو اللہ نے بھیجا ہے ۔ اور اللہ ہم کو یہاں لایا ہے تاکہ جو چاہے اس کو انسانوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت کی طرف لائیں اور دنیا کی تنگی سے اس کی وسعت کی طرف اور مذاہب کے ظلم سے اسلام کے انصاف کی طرف لائیں ( قال : الله ابتعثنا والله جاء بنا لنخرج من شاء من عبادة العباد الى عبادة الله ومن ضيق الدنيا الى سعتها ومن جور الاديان الى عدل الاسلام ) تاریخ کے تین دور یورپی مورخین عام طور پر تاریخ کو تین دوروں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ اول، رومی شہنشاہیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader