Urdu book · دین کامل

پیغمبر آخرالزمان کا ظہور

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

کے سقوط سے پہلے کا دور۔ رومی شہنشاہیت کے مغربی حصہ کو سب سے پہلے جرمَن (Germanic) قبائل نے ۶۰۷ م میں کمزور کیا۔ اُس کے بعد عربوں نے ساتویں صدی عیسوی میں آخری طور پر رومی شہنشاہیت کا خاتمہ کر دیا جو بحرِ متوسط (Mediterranean Sea) کے دونوں طرف پھیلی ہوئی تھی تاہم جرمَن قبائل کا حملہ اور عرب فتوحات میں بہت بڑا فرق ہے۔ جرمَن قبائل کے حملے سے مغربی رومی شہنشاہیت کو صرف سرحدی نوعیت کا فوجی اور سیاسی نقصان ہوا تھا۔ جب کہ عرب فتوحات کے نتیجہ میں صرف ایک حکومتی نظم نہیں ٹوٹا بلکہ وقت کی غالب تہذیب (یونانی۔ رومی تہذیب) کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ رومی سلطنت اور رومی تہذیب کے سقوط سے لے کر ۱۵ویں صدی کے آخر تک کے زمانہ کو قرونِ وسطیٰ (Middle ages) کہا جاتا ہے۔ یہ درمیانی زمانہ ہے جب کہ مغربی دنیا قدیم دور سے نکل کر جدید دور کی طرف آئی۔ تیسرا دور سولہویں صدی کے آغاز سے لے کر اب تک کا ہے۔ اس کو عام طور پر دورِ جدید کہا جاتا ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ مغربی دنیا میں سیاسی اور صنعتی انقلاب آیا اور دنیا روایتی دور سے نکل کر پوری طرح سائنسی دور میں پہونچی۔ تاریخ اور سماجیات کا مطالعہ بتا تا ہے کہ قدیم دور میں ساری دنیا کا سب سے بڑا مذہب توہم پرستی (Superstition) تھا۔ ساری دنیا میں توہماتی عقائد چھائے ہوئے تھے۔ اس دور کی تمام حکومتیں توہماتی عقائد پر قائم تھیں ۔ ان میں سے دو حکومتیں سب سے بڑی حکومتیں شمار ہوتی تھیں ۔ ایک ایرانی حکومت (Sassanid Empire) اور دوسری رومی حکومت (Byzantine Empire) یہ حکومتیں مکمل طور پر توہماتی نظام کی سر پرست بنی ہوئی تھیں۔ کیوں کہ ان توہمات کے بقا پر ہی ان کی بقا کا انحصار تھا۔ مثال کے طور پر، مفروضہ عقائد کے تحت یہ مان لیا گیا تھا کہ ہر قسم کی بڑائی اور حقوقِ مطلق طور پر صرف وقت کے شاہی خاندان کو حاصل ہیں ۔ عوام کی حیثیت محض رعایا کی ہے۔ شاہی خاندان کی ابدی خدمت کے سوا ان کا اور کوئی حق نہیں ۔ اب دنیا میں علم اور روشنی کا دور لانے کے لیے ان حکومتوں کا ٹوٹنا ناگزیر تھا۔ ان حکومتوں کے رہتے ہوئے ناممکن تھا کہ دنیا علم اور آزادی اور مساوات کی قدروں سے آشنا ہو سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page