پیغمبر آخرالزمان کا ظہور
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی وہ اہم کام ہے جو صحابہ اور تابعین کے ذریعہ انجام پایا ۔ یہ ایک مقدس خدائی فوج تھی جس نے ان حکومتوں کو توڑ کر کمر انسانیت کے لیے ہر قسم کی ترقیات کا دروازہ کھولا۔ اگر شکست و ریحست کا یہ عمل نہ کیا جاتا تو آج بھی دنیا انھیں تاریک ادوار (Dark Ages) میں پڑی رہتی جہاں وہ اس انقلاب سے پہلے پڑی ہوئی تھی ۔ یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس کا اعتراف خود غیر مسلم محققین نے مختلف انداز میں کیا ہے۔ مثال کے طور پر مشہور مورخ ہنری پرین کی کتاب ” تاریخ یورپ “ اس سلسلہ میں خصوصی طور پر قابل مطالعہ ہے ۔ ہنری پرین نے اپنی اس کتاب میں جو نظریہ پیش کیا ہے اس کا خلاصہ انسائیکلوپیڈیا برطانیہکا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار کے الفاظ میں یہ ہے : (According to) the widely discussed theory of Henri Pirenne, the essential break between the ancient and medieval worlds came with the destruction of the unity of the Mediterranean world not by the Germanic but the Arab invasions (13/155). ہنری پرین کا نظریہ جو کافی بحث کا موضوع رہا ہے ، اس کے مطابق قدیم دنیا اور متوسط دنیا کے درمیان بنیادی انفصال اس وقت ظہور میں آیا جب کہ بحر متوسط کی دنیا کے اتحاد کو توڑ دیا گیا ۔ یہ واقعہ جرمن قبائل کے ذریعہ نہیں بلکہ عرب حملوں کے ذریعہ پیش آیا ۔ ہنری پرین (۱۹۳۵-۱۸۶۲) قرون وسطی کی تاریخ کا ممتاز ترین عالم تھا ۔ اس کا کہنا ہے کہ مشرق ہی قدیم زمانہ میں بار آور کرنے کا ذریعہ تھا ۔ قسطنطنیہ کو ( رومی سلطنت کے تحت) دنیا کے مرکز کی حیثیت حاصل تھی ۔ ۶۰۰ء میں دنیا کے طبعی حالات ، اپنی نوعیت کے اعتبار سے ، اس سے مختلف نہ تھے جو ۴۰۰ء میں تھے ۔ قدامت کی روایات سے انفصال کا سبب اسلام کی تیز اور غیر متوقع توسیع تھی ۔ اس توسیع کا نتیجہ مشرق کی مغرب سے آخری علیحدگی اور بحر روم کے اتحاد کا خاتمہ تھا: The Orient was the fertilizing: Constantinople, the centre of the world. In 600 the physiognomy of the world was not different in quality from that which it had revealed in 400. The cause of the break with the tradition of antiquity was the rapid and unexpected advance of Islam. The result of this advance was the final separation of East from West, and the end of the Mediterranean unity. Dr Henri Pirenne, Muhammad and Charlemagne, 1937, p.284

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader