پیغمبر آخرالزمان کا ظہور
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
خدائی آپریشن رومی اور ایرانی شہنشاہیت کے خلاف صحابہ اور تابعین کے ذریعہ جو کارروائی کی گئی۔ اس کی توجیہہ موجودہ زمانہ کے کچھ مسلم مفکرین اس طرح کرتے ہیں گویا کہ وہ کوئی ابدی اور مستقل نمونہ ہے۔ بالفاظِ دیگر ، یہی امت مسلمہ کا منصبی مشن ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو ہر ملک کے مسلمانوں کو ہر زمانہ میں دہراتے رہنا ہے۔ مگر یہ خدائی معجزہ کو انسانی نصب العین قرار دینا ہے جو بلا شبہ صحیح نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ ایک خدائی معجزہ تھا، جو سیاسی قالب میں ظاہر کیا گیا۔ اس کا انسانی مشن سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ۔ اقبال کا ایک شعر اس معاملہ میں مسلم مفکرین کے نقطہ نظر کو بخوبی طور پر بیان کرتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رجز خوانی کے ذریعہ پہلے مجاہدین کی ایک ٹیم تیار کرو، اور جب یہ ٹیم تیار ہو جائے تو اس کے بعد اس کو باطل حکومتوں کے خلاف ٹکرا دو ۔ اس فکر کے ایک حامی کے الفاظ میں ، پہلا مرحلہ پر امن کوشش (Passive resistance) کا ہے ، اور دوسرا مرحلہ مسلح ٹکراؤ (Armed struggle) کا : بانہ درویشی بر ساز دما دم زن چول پختہ شوی خود را بر سلطنت جم زن مگر ابتدائی اسلامی تاریخ کی یہ تشریح صحیح نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں روم اور ایران کی سلطنتوں کے خلاف جو کچھ پیش آیا وہ نمونہ نہیں بلکہ معجزہ تھا۔ یہ ایک قسم کا خدائی آپریشن تھا۔ قدیم طرز کی سلطنتیں ہر قسم کی انسانی ترقی کے لیے ایک مستقل روک بن گئی تھیں ۔ مذہبی آزادی ، انسانی مساوات اور سائنسی ترقیوں کا خواب ہزاروں برس سے بے تعبیر بنا ہوا تھا۔ اور اس کا واحد سب سے بڑا سبب یہی قدیم طرز کی شہنشاہیتیں تھیں ۔ جو گویا دروازہ آب کی مانند انسانی ترقیوں کے سیلاب کو روکے ہوئے تھیں ۔ تمام ترقیوں کا واحد دروازہ آزادی رائے ہے۔ مگر قدیم طرز کی مطلق العنان حکومتوں کے دور میں انسان کے لیے آزادی رائے کا کوئی سوال نہ تھا۔ ایرانی بادشاہ نوشیرواں کے دربار میں ایک شخص نے بادشاہ سے اختلاف رائے کیا تو بادشاہ نے حکم دیا کہ اس شخص کو اپنے علم پر ناز ہو گیا ہے ، اس کے سر کو تملدان سے توڑ دیا جائے ۔ چنانچہ بادشاہ کے حکم کے تخت کئی درباریوں نے!

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader