Urdu book · دین کامل

پیغمبر آخرالزمان کا ظہور

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

نے قلم دان ہاتھ میں لے کر اس کے سر پر مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ اس کا سر ٹوٹ گیا اور وہ وہیں ہلاک ہوگیا ۔ یہی حال رومی شہنشاہوں کا تھا۔ ان کے یہاں اختلاف رائے اتنا ہی سنگین جرم تھا جتنا کہ ملک یا اسٹیٹ سے غداری ۔ اگر کوئی شخص شہنشاہ سے اختلاف رائے کی جرات کرتا تو اس کی کم سے کم سزا یہ ہوتی کہ اس کو پختہ گڑھے میں ڈال کر اس کے اوپر چیتے اور بھیڑیئے چھوڑ دیئے جائیں جو اس کو بھنچوڑتے رہیں، یہاں تک کہ اسے مار ڈالیں ۔ یہی قدیم زمانہ کے تمام بادشاہوں کا طریقہ تھا اور اس طرح کی مطلق شہنشاہیت کی فضا میں یہ ناممکن تھا کہ انسانی علم اور انسانی تہذیب تمدن کی طرف اپنا سفر شروع کر سکے ۔ ہزاروں سال سے پیغمبر اور مصلحین اس صورت حال کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے۔ مگر ان کوششوں کے نتیجہ کو دیکھ کر یہ ثابت ہو گیا کہ مروجہ سیاسی نظام کے باقی رہتے ہوئے انسانی اصلاح کا کام انجام پا نا ممکن نہیں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے وہ فیصلہ فرمایا جس کو قرآن میں قتالِ فتنه (البقره، الانفال) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی خدائی آپریشن کے ذریعہ اس شہنشاہی نظام کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیا جائے جو ہر اصلاحی عمل اور ہر ترقیاتی کام کی راہ میں ناقابل عبور رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔ خواہ اس اصلاح کا تعلق مذہبی امور سے ہو یا سیکولر امور سے ۔ اسلام کے دور اول میں روم دایران کی سلطنتوں سے جو لڑائیاں ہوئیں، وہ انتہائی طور پر غیر مساویانہ تھیں ۔ یہ بلامبالغہ بے سروسامان انسانوں کا باسروسامان طاقتوں سے لڑ جانا تھا۔ اس کے باوجود اس مقابلہ میں انتہائی کم مدت میں ایسی عظیم کامیابی حاصل ہوئی جو پوری انسانی تاریخ میں اپنی کوئی مثال نہیں رکھتی ۔ اس واقعہ کی یہی انوکھی صفت ہے جس کی بنا پر ولفرڈبلنٹ (Wilfrid Blunt) نے لکھا ہے کہ انسانیت کی پوری طویل تاریخ میں اسلام کی تیز رفتار اشاعت سے زیادہ عجیب (Amazing) واقعہ کوئی دوسرا نہیں (ٹائمس، ۲ اپریل ۱۹۷۶ء) ہنری پیرین نے اس کی اسی نوعیت کی بنا پر اس کو محض ایک اتفاقی واقعہ قرار دیدیا ہے ۔ اس نے لکھا ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page