Urdu book · دین کامل

پیغمبر آخرالزمان کا ظہور

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

In a certain sense, the expansion of Islam was due to chance, if we can give this name to the unpredictable consequence of a combination of causes. Mohammed and Charlemagne, p.148 فردوسی کے نزدیک یہ واقعہ اتنا مستبعد تھا کہ اس نے اپنے شاہنامہ میں لکھا : از شیر شتر خوردن و سوسمار عرب را بجائے رسید است کار که تخت کیاں را کند آرزو تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو مورخین عام طور پر ان فتوحات کا ذکر نا قابل فہم حیرانی کے ساتھ کرتے ہیں۔ مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے ان میں تعجب کا کوئی پہلو نہیں۔ اس لیے کہ باعتبار حقیقت ، یہ انسانی واقعات نہ تھے بلکہ خدائی واقعات تھے۔ اپنی ظاہری صورت میں وہ " عرب " کی " عجم " کے ساتھ لڑائی تھی ۔ مگر اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک قسم کا خدائی آپریشن تھا جو عربوں کے ذریعہ شہنشاہی فتنے کے خلاف انجام دیا گیا۔ بائبل میں پیغمبر اسلام کے بارے میں جو پیشین گوئیاں ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ " اس کا جلال آسمان پر چھا گیا اور زمین اس کی حمد سے معمور ہو گئی ۔ اس کی جگہ گاہٹ نور کی مانند تھی ۔ اس کے ہاتھ سے کرنیں نکلتی تھیں اور اس میں اس کی قدرت نہاں تھی ۔ وبا اس کے آگے آگے چلتی تھی اور آتشیں تیر اس کی قدموں سے نکلتے تھے۔ وہ کھڑا ہوا اور زمین تھر اگئی ۔ اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں ۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گیے ۔ قدیم ٹیلے جھک گیے ۔ اس کی راہیں ازلی ہیں (حبقوق ، باب ۳) مورخین کے مذکورہ الفاظ اور بائبل کا مذکورہ بیان ، اس قسم کی تمام چیزیں اپنے اپنے انداز میں اس بات کا اعتراف ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو واقعہ انجام پایا وہ خدائی واقعہ تھا۔ وہ صرف خدائی طاقتوں کے ذریعہ ہو سکتا تھا۔ انسان کے بس میں نہیں کہ وہ ایسے عظیم اور بے مثال واقعہ کو ظہور میں لا سکے ۔ خدا کے سپاہی پیغمبر اسلام کے ذریعہ جو خدائی آپریشن کرایا گیا ، اس کے لیے آپ کو وہ بہترین افراد دیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page