Urdu book · دین کامل

پیغمبر آخرالزمان کا ظہور

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

کیے جو اس خدمتِ خاص کے لیے موزوں ترین تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایسے ربانی افراد تھے جیسے افرادِ انسانی تاریخ میں نہ اس سے پہلے پائے گئے اور نہ اس کے بعد ۔ بائبل میں بجا طور پر ان کو ہزاروں قدسیوں (Saints) کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ( استثناء، باب ۳۳ ) پیغمبرِ اسلام کے ساتھ فتح مکہ کے وقت دس ہزار اصحاب تھے ۔ حجۃ الوداع کے وقت ان کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر ہو چکی تھی ۔ بعد کو تابعین کی صورت میں اس مقدس تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔ یہ مردانِ کار گویا خدا کے سپاہی تھے ۔ انھوں نے ناقابل یقین حد تک خدائی احکام کا پابند رہ کر اس خدائی آپریشن کو انجام دیا۔ ان کا حال یہ تھا کہ جنگ کے دوران اگر دشمن کے کسی فرد نے ان کے اوپر تھوک دیا تو فورا وہ اس کو چھوڑ دیتے تھے کہ اب اگر ماریں گے تو وہ اس کو نفسانی تحرک کے تحت ماریں گے ، جب کہ خدائی حکم کے مطابق رضائے الہی کے سوا کسی اور محرک کے تحت کسی انسان کو مارنا جائز نہیں ۔ ان کا یہ حال تھا کہ دشمن سے انتہائی بے جگری کے ساتھ لڑتے تھے مگر جس لمحہ اس نے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا فی الفور وہ اپنی تلوار کو نیام میں کر لیتے تھے ۔ وہ اس سے قطعاً نا آشنا شتے کہ انتقامی جذبہ کے تحت کسی کا خون بہائیں ۔ وہ ایک قوم سے جنگ کرتے تھے مگر جب وہ قوم اطاعت پر اپنی رضامندی ظاہر کر دیتی تو اس کے ملک کا انتظام خود اسی کے حوالہ کر دیتے اور کہتے کہ ہم تو صرف تمہاری سرکشی کو توڑنے آئے تھے ۔ ہمیں تمہارے مال اور اقتدار سے کوئی مطلب نہیں ۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا حال یہ تھا کہ انھوں نے تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت بنائی مگر ان حکومتوں تک رسائی سے حرفِ ان کی ذمہ داری کے احساس میں اضافہ کیا۔ ان کا معیار زندگی اونچا ہونے کے بجائے اور نیچا ہو گیا۔ ان کی رعایا بادشاہوں کی طرح رہتی مگر وہ خود فقیروں کی طرح زندگی گزارتے ۔ دوسرے لوگ ریشم اور کمخواب کے کپڑے پہنتے مگر ان کے جسم پر پیوند لگے ہوئے کپڑے دکھائی دیتے ۔ دوسرے لوگ شاندار گھوڑوں پر سفر کرتے مگر ان کا سفر اس طرح طے ہوتا کہ خادم اونٹ پر سوار ہے اور خود اونٹ کی نکیل پکڑ کر پیدل راستہ طے کر رہے ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page