پیغمبر آخرالزمان کا ظہور
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ یہ بے نفس انسانوں کا ایسا گروہ تھا جس پر فرشتے بھی رشک کریں۔ جب ایران فتح ہوا اور ساسانی سلطنت کا سپہ سالار اعظم مارا گیا تو ایک مسلمان فوجی کو لاشوں کے ڈھیر میں اس کا تاج ہاتھ آیا۔ یہ تاج سونے اور جواہرات کا بنا ہوا تھا اور اس کی قیمت کروڑوں روپے سے بھی زیادہ تھی ۔ مگر اس فوجی نے نہ صرف یہ کہ اس تاج پر ذاتی قبضہ نہیں کیا بلکہ اس نے یہ بھی پسند نہیں کیا کہ وہ اس حیثیت سے مشہور ہو کہ اس نے شاہی تاج کو واپس کر دیا ہے۔ رات کی تاریکی میں اس نے تاج کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اس کو لے کر خاموشی سے سردار کے خیمہ میں پہنچا اور اس کو اسلامی فوج کے سردار کے حوالہ کر دیا۔ تاج سے جب کپڑا ہٹایا گیا تو ہیروں کی جگمگاہٹ سے خیمہ روشن ہو گیا ۔ اسلامی لشکر کے سردار نے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے ۔ اس آدمی نے خیمہ کے دروازے کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا: " جس کی خاطر میں نے ایسا کیا ہے وہ میرا نام اچھی طرح جانتا ہے"۔ یہ کہا اور خیمہ کے باہر رات کی تاریکی میں غائب ہو گیا ۔ انسانی تاریخ کا رجسٹر اس فوجی کا نام نہیں بتاتا ۔ مگر خدا کے رجسٹر میں بلا شبہ اس کا نام شاندار طور پر درج ہے ــــ یہ تھے وہ مقدس ترین لوگ جن کو خدا نے اپنے سپاہی کی حیثیت سے چنا اور جن کے ذریعہ ایک انتہائی مقدس خدائی آپریشن کرایا ۔ ان لوگوں نے خدا کے خصوصی حکم کے تحت قدیم فتنہ شہنشاہیت کے خلاف قتال کیا اور ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ کر کے انسانیت کے اوپر ہر قسم کی ترقیوں اور سعادتوں کا ابدی دروازہ کھول دیا ۔ یہ لوگ بلاشبہ خدا کے سپاہی تھے ۔ خدا نے اپنے پسندیدہ سپاہیوں کے ذریعہ ایک بار کے لیے یہ ضروری فوجی آپریشن کرایا اور معجزاتی طور پر اس کو آخری کامیابی تک پہنچا یار ۔ اس مقدس گروہ کے سوا کوئی اور گروہ اتنا بے نفس نہیں ، اس لیے دوبارہ کوئی گروہ اس قسم کی کارروائی کا مجاز بھی نہیں ۔ اگر کوئی دوسرا گروہ " قتال فتنہ کا نعرہ بلند کر کے لوگوں سے جنگ کرنے لگے تو یقینی طور پر وہ زمین میں فساد برپا کرے گا نہ کہ اصلاح ۔ ایک بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے اسوہ تھے ۔ تاہم آپ کی زندگی کے بعض افعال صرف آپ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان افعال میں امت آپ کی شریک نہیں ۔ مثلاً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader