Urdu book · دین کامل

پیغمبر آخرالزمان کا ظہور

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

عام امت کے لیے نکاح کی آخری حد چار عورتیں ہیں۔ مگر آپ کے لیے خصوصی مصالح کے تحت اس سے زیادہ تعداد کی اجازت دی گئی ۔ عام امت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ انکارِ ایمان کی بنا پر کسی کو قتل کرے ۔ مگر پیغمبر اسلام کو اپنے مخاطبین اول (بنو اسماعیل) کے حق میں یہ ہدایت دی گئی کہ اتمام حجت کے بعد آپ ان سے کہہ دیں کہ وہ یا تو ایمان لائیں ورنہ قتل کر دیے جائیں گے۔ فتح مکہ کے موقع پر وقتی طور پر آپ کو حرم میں خون بہانے کی اجازت دی گئی جب کہ امت کے لیے ابدی طور پر حرم میں خون بہانا حرام ہے۔ وغیرہ ۔ آپ کا روم و ایران کے خلاف جنگ چھیڑ نا بھی اسی قسم کا ایک معاملہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی تبعیت میں آپ کے اصحاب نے وقت کی شہنشاہیتوں کے خلاف ختم فتنہ کے لیے جو جنگی کار روائی کی، وہ آپ اور آپ کی تبعیت میں صحابہ کی ذات تک مختص تھی۔ یہ ایک خصوصی حکم تھا نہ کہ عمومی حکم ۔ اس کے بعد اس معاملہ میں صرف دو نمونے ہیں جو امت کے لیے عمومی طور پر باقی ہیں دعوت ، اور حسب شرائط دفاعی جنگ ۔ ” فقاتلوهم حتى لاتكون فتنة “ کا حکم امت کے عمومی مشن سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔ صحابہ کرام نے ہنری پرین کے الفاظ میں، شاہی مطلق العنانی (Empirical absolutism) کے جابرانہ نظام کو ختم کرنے کے لیے جو خدائی آپریشن کیا، اس کے متعلق وہ بخوبی طور پر جانتے تھے کہ یہ ایک بار کا عمل ہے نہ کہ بار بار کا عمل ۔ یعنی وہ مستمر کار نبوت نہیں ہے جو ہر نسل اور ہر دور میں امت محمدی کو دہراتے رہنا ہے۔ یہ ایک وقتی آپریشن تھا اور اس قسم کا آپریشن صرف ایک بار کیا جاتا ہے ۔ اس خدائی آپریشن کا پوری طرح کامیاب ہو جانا ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ دوبارہ اسے دہرانے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔ صحابی کی تشریح قرآن میں پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ جنگ کر کے فتنہ کو ختم کریں ۔ یہ حکم قرآن میں دو جگہ آیا ہے ۔ یہاں ہم دونوں آیتوں کا لفظی ترجمہ نقل کرتے ہیں : اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اس کے بعد ظالموں کے سوا کسی اور پر سختی نہیں (البقرہ ۱۹۳) اور ان سے لڑو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page