Urdu book · دین کامل

پیغمبر آخرالزمان کا ظہور

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے، پھر اگر وہ باز آ جائیں تو بے شک اللہ دیکھنے والا ہے ان کے عمل کا (الانفال ۹۳) ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جس جنگ کا حکم دیا گیا ہے اس کا تعلق صرف فتنہ سے ہے۔ فتنہ کے ختم ہوتے ہی یہ جنگ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ فتنہ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک ، شرک ہے۔ بعض مفسرین نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ یہاں شرک سے مراد شرک جارح ہے۔ یعنی وہ شرک جو صرف ذاتی عقیدہ نہ رہے بلکہ جبر کی صورت اختیار کر لے۔ اس قسم کا جابرانہ شرک قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں رائج تھا اور یہی وہ فتنہ ہے جس کو لڑ کر ختم کرنے کے لیے قرآن میں حکم دیا گیا۔ اب چونکہ اس نوعیت کا مشرکانہ فتنہ دنیا میں باقی نہیں ہے، اس لیے اب اس نوعیت کی جنگ کی بھی اہل اسلام کو ضرورت نہیں۔ حکم کی یہ نوعیت صحابہ کرام پر پوری طرح واضح تھی ۔ یہ بات حضرت عبداللہ بن عمر کی اس روایت سے بخوبی طور پر سمجھ میں آتی ہے جو مختلف کتب حدیث میں موجود ہے اور جن کو حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں جمع کر دیا ہے ۔ یہاں ہم تفسیر ابن کثیر کے متعلقہ حصہ کا خلاصہ درج کرتے ہیں ۔ ابو العالیہ، مجاهد، سعید بن جبیر، عکرمہ ، الحسن ، قتادہ ، الضحاک اور الریع بن انس کا قول ہے کہ آیت الفتنۃ اشد من القتل (البقرہ ۱۹۱) کا مطلب ہے : الشرك اشد من القتل ۔ یعنی شرک قتل سے زیادہ سنگین ہے ۔ " یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے " یعنی شرک نہ رہے ۔ یہی قول ابن عباس ، ابوالعالیہ، مجاہد، الحسن ، قتادہ، الربیع، مقاتل بن حیان، السدی اور زید بن اسلم کا ہے ۔ اور آیت " پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اس کے بعد سختی نہیں ہے مگر ظالموں پر " (البقرہ ۱۹۳) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اپنے شرک سے باز آ جائیں اور مسلمانوں سے جنگ نہ کریں تو ان سے رک جاؤ۔ اور اس کے بعد جو شخص لڑے تو وہی ظالم ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ جنگ نہ کی جائے سوا اس سے جو خود جنگ کرے (ان لا یقاتل الا من قاتل) نافع کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن کیا سبب ہے کہ آپ ایک سال حج کرتے ہیں اور ایک سال ٹھہرتے ہیں ۔ مگر آپ جہاد فی سبیل اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page