پیغمبر آخرالزمان کا ظہور
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
کو چھوٹے ہوئے ہیں ۔ حالاں کہ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ نے کتنی زیادہ اس کی رغبت دلائی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا کہ اے میرے بھتیجے ، اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔ اللہ پر ایمان اور رسول پر ایمان اور پانچ وقت کی نماز اور رمضان کے مہینہ کا روزہ اور زکواۃ ادا کرنا اور حج کرنا ۔ انھوں نے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن ، کیا آپ کو قرآن کی یہ آیت نہیں معلوم جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ ۔ پھر اگر ان میں کا ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کے تحت لوٹ آئے ۔ ( الحجرات ۹ ) اور اسی طرح قرآن میں ہے کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتہ نہ رہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ کام کر چکے ۔ اس وقت اسلام قلیل تھا ۔ پس آدمی اپنے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالا جاتا تھا ۔ لوگ اس کو یا قتل کر دیتے یا اس کو سخت تکلیف پہنچاتے یہاں تک کہ اسلام کثیر ہو گیا اور فتنہ باقی نہ رہا ۔ تفسیر ابن کثیر ، الجمزۃ الاول ، صفحه ۲۸ - ۲۲۷ امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن عمر کے بارہ میں ایک روایت نقل کی ہے کہ ( فتنہ ابن الزبیر کے زمانہ میں ) ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اے ابو عبد الرحمن ، کیا آپ کو نہیں معلوم جو اللہ نے اپنی کتاب میں دو مومن گروہوں کے قتال ( الحجرات ۹ ) کے بارے میں فرمایا ہے ۔ پھر آپ کو کیا چیز روکتی ہے کہ آپ کتاب الہی کے مطابق جنگ نہیں کرتے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا کہ اے میرے بھتیجے ، میں جنگ نہ کروں اور مجھے اس آیت کے ذریعہ عار دلائی جائے ، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ مجھے اس دوسری آیت سے عار دلائی جائے جس میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کیا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ( النساء ۹۳ ) آنے والے شخص نے دوبارہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا : قد فعلنا على عهد رسول الله صلى الله الله یہ کام ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ علیہ وسلم اذ كان الاسلام قليلاً میں کر دیا ۔ جب کہ اسلام کم تھا اور آدمی اپنے دین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader