Urdu book · دین کامل

پیغمبر آخرالزمان کا ظہور

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

وكان الرجل يفتن في دينـه امـتـحان کے بارے میں آزمائش میں ڈالا جاتا تھا۔ اس کو یا تو يقتلوه وإما ان يوثقوه حتی کش لوگ قتل کر دیتے تھے یا اس کو باندھ دیتے تھے۔ الاسلام فلم تکن فتنة یہاں تک کہ اسلام زیادہ ہو گیا ، پس فتنه باقی نہ رہا۔ ایک اور روایت کے مطابق حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ، ہمارے پاس آئے۔ ان سے کہا گیا کہ قتالِ فتنہ کے قرآنی حکم کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے لڑتے تھے اور ان پر داخل ہونا فتنہ نہ تھا ، نہ کہ تمہارا اقتدار کے لیے لڑنا ( ليس بقتالكم علی الملک ) ایک اور روایت کے مطابق نافع کہتے ہیں کہ فتنہ ابن الزبیر کے زمانہ میں دو آدمی حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں اس کو آپ دیکھ رہے ہیں ، اور آپ عمر بن خطاب کے صاحبزادے ہیں اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے صحابی ہیں۔ پھر آپ کو کیا چیز روکتی ہے کہ آپ نہیں نکلتے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا کہ مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ نے میرے اور مسلم بھائی کا خون حرام کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ، کیا اللہ نے قرآن میں یہ نہیں فرمایا ہے کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے اس کے جواب میں فرمایا : فقال قد قاتلناحتی لم تکن فتنة و انھوں نے کہا کہ ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنه كان الدين كله لله ، وانتم ترمیدون نہ رہا اور دین سب اللہ کے لیے ہو گیا ۔ اور تم ان تقاتلوا حتى تكون فتنة ويكون چاہتے ہو کہ جنگ کرو یہاں تک کہ دوبارہ فتنه الدين لغير الله پیدا ہو اور دین غیر خدا کے لیے ہو جائے ۔ ایوب بن عبداللہ مخی کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس تھا ۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اس نے کہا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے ۔ پھر آپ کیوں نہیں جنگ کرتے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ نہ رہا۔ اور تم چاہتے ہو کہ جنگ کرو یہاں تک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page