پیغمبر آخرالزمان کا ظہور
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ پھر فتنہ ہو جائے اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے۔ عمار بن سلمہ کی ایک روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ دان سے لڑنے کے لیے کہا گیا ، تو انھوں نے فرمایا کہ میں اور میرے اصحاب لڑے ۔ یہاں تک کہ دین اللہ کے لیے ہو گیا۔ اور شرک چلا گیا ۔ اور فتنہ باقی نہ رہا ۔ مگر تمھارے ساتھی جنگ کر رہے ہیں تاکہ دوبارہ فتنہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے ۔ ضحاک نے کہا کہ عبداللہ بن عباس نے آیت ( لا تکون فتنة) کی تفسیر لا يكون شرك سے کی ہے ۔ یہی قول ابو العالیہ ، مجاہد ، الحسن ، قتادہ ، الربیع ، ابن انس ، السدی ، مقاتل بن حیان اور زید بن اسلم کا بھی ہے ۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ کو الزہری اور دوسرے علماء سے یہ بات پہنچی ہے کہ : حتیٰ لا تکون فتنة کا مطلب یہ ہے کہ : حتى لا يفتن مسلم عن دینہ (یہاں تک کہ کوئی مسلمان اپنے دین کے بارے میں آزمائش میں نہ ڈالا جائے)۔ تفسیر ابن کثیر ، الجزو الثانی ، صفحہ ۳۰۹ - ۳۰۸ معجزہ نہ کہ نمونہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ شق القمر کا واقعہ پیش آیا ۔ کوئی مسلمان اس کی بنیاد پر یہ نہیں کہتا کہ چاند کو دو ٹکڑے کرنا امت محمدی کا مشن ہے ۔ اور ہم کو یہ کوشش کرنا چاہیے کہ ہم دوبارہ چاند کو دو ٹکڑے کر کے لوگوں کے اوپر اپنے دین کی حقانیت ثابت کریں ۔ اس کے برعکس روم و ایران کے خلاف آپ نے اور آپ کے اصحاب نے جو لڑائیاں کیں ، اس کو مسلمان اپنے لیے نمونہ سمجھتے ہیں۔ مسلم مفکرین یہ کہتے ہیں کہ اسی طرح ہمیں ہر دور کے " روم و ایران " سے ٹکرا کر ان کا خاتمہ کرنا چاہیے ۔ دو واقعات کی تعبیر میں اس فرق کا سبب یہ ہے کہ شق القمر کا واقعہ فوق الطبیعی سطح پر ہوا، اور روم و ایران کی شکست طبیعی سطح پر انجام پائی ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جس طرح پہلا واقعہ ایک معجزہ تھا ، اسی طرح دوسرا واقعہ بھی ایک معجزہ ہے ۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : قاتلوهم يعذبهم الله بأيدیکم ۔ یعنی ان سے جنگ کرو ، اللہ تمھارے ہاتھوں سے ان کو عذاب دے گا ( التوبہ ۱۴) یہ آیت براہ راست طور پر بنو اسماعیل سے متعلق ہے اور بالواسطہ طور پر روم و

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader