Urdu book · دین کامل

ایک مطالعہ

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

سوا کسی اور کی طرف سے کوئی اندیشہ نہیں۔ یہی مطلب ہے اس آیت کا جس میں ارشاد ہوا ہے کہ فلا تخشوهم واخشون (المائدہ ۳) موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لئے عمل کے دو میدان تھے۔ ایک، اسلام کی فطری قوتوں کو پر امن جدوجہد سے بروئے کار لانے کا میدان۔ دوسرا سیاسی اور فوجی میدان میں اسلام کو لے کر اٹھنا۔ اول الذکر میدان ان کو علامتی طور پر "مسجد" کہا جا سکتا ہے، اور ثانی الذکر میدان کو علامتی طور پر "حکومت"۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نظر اگر ان امکانات پر جمی ہوئی ہوتی جن کا تعلق مسجد والے میدان سے ہے تو وہ کسی حال میں محرومی کے احساس سے دوچار نہ ہوتے اور نہ یہ سمجھتے کہ ان کے لئے تمام مواقع ختم ہو چکے ہیں۔ سیاسی محرومی کے باوجود وہ محسوس کرتے کہ جو کچھ ان سے کھو گیا گیا ہے، اس سے بہت زیادہ وہ ہے جو اب بھی ان کے پاس موجود ہے۔ وہ اس حقیقت کو جانتے کہ انھوں نے "انسان" کو کھویا ہے مگر انھوں نے "خدا" کو نہیں کھویا۔ وہ سیاسی حمایت سے محروم ہوئے ہیں مگر خدا وند عالم کی حمایت بدستور انھیں پوری طرح حاصل ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے سیاسی ادارہ کھونے کا چرچا اتنے مبالغہ آمیز انداز میں کیا کہ تمام مسلمانوں کا ذہن اس کی وجہ سے بگڑ گیا۔ وہ سمجھے کہ سیاسی ادارہ کو کھو کر انھوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے۔ یہی واحد وجہ ہے کہ سوسال سے بھی زیادہ مدت سے مسلمان صرف ایک بے فائدہ کام میں مشغول نظر آتے ہیں۔ سیاست کی چٹان سے اپنا سر ٹکرانا، اور جب سر ٹوٹ جائے تو مفروضہ دشمنوں کی سازش کے خلاف پرشور بیانات دینا۔ یہ بلاشبہ خود کشی کا راستہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ خود کشی کے راستہ کو چھوڑ کر زندگی کے راستہ کو اپنائیں، اور پھر وہ کامیابی کی شاہراہ کو اپنے سامنے کھلا ہوا پائیں گے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے بہت بڑی تعداد میں اپنے اندر اعظم واکابر پیدا کئے۔ مگر ان کے یہ تمام بڑے اسی اصل چیز سے نا واقف نظر آتے ہیں جو اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ یعنی اسلام کا ایک فطری مذہب ہونا۔ بطور فخر تو بہت سے لوگوں نے اس کو دہرایا ہے، مگر بطور حقیقت شاید ان میں سے کسی نے بھی اسے نہیں جانا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page