ایک مطالعہ
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے دین فطرت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی جڑیں خود فطرت انسانی میں پیوست ہیں۔ اسلام کے خلاف تخریبی منصوبے بنائے جاسکتے ہیں۔ مگر اسلام کو ختم کرنا کسی بھی شخص یا ادارہ کے لئے ممکن نہیں۔ کیوں کہ اسلام ، نفسیاتی اعتبار سے ، ہر آدمی حتیٰ کہ خود مخالفین کے دلوں میں موجود ہے۔ وہ ہرایک کا اپنا دین ہے ، ایسی حالت میں کیوں کر ممکن ہے کہ کوئی شخص اسلام کے خلاف اپنے تخریبی منصوبہ میں کامیاب ہوسکے۔ کوئی شخص اپنی نفی نہیں کرسکتا۔ اسی طرح کوئی شخص اسلام کی نفی بھی نہیں کرسکتا۔ اسلام کی نفی کرنا اپنی نفی کرنا ہے ، اور کون ہے جو خود اپنی نفی کرنے پر تل درہو۔ یہ واقعہ بلا شبہ اسلام کے حق میں سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس طاقت کے ہوتے ہوئے کسی بھی حال میں مسلمانوں کے لیے مایوسی یا ”خودکشی “ کا کوئی سوال نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اپنی ذات میں سب سے بڑی طاقت ہے، اسی کے ساتھ وہ اپنی ذات میں اہل اسلام کا سب سے بڑا محافظ بھی۔ اکتوبر ۱۹۸۸ میں میری ملاقات ایک امریکی سیاح سے ہوئی ۔ وہ خدا کو مانتا تھا اور مذہب میں عقیدہ رکھتا تھا۔ اس نے بتایا کہ ایک بار وہ ماسکو گیا اور وہاں کچھ عرصہ ٹھہرا۔ ایک روسی لڑکی اس کی گائیڈ تھی۔ یہ لڑکی اکثر مذہب کے خلاف بولتی۔ وہ کسی نہ کسی بہانے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی کہ نہ خدا کا کوئی وجود ہے اور نہ مذہب کی کوئی حقیقت۔ مثلاً ایک بار اس نے سیاح سے کہا کہ ہمارا راکٹ چاند تک گیا اور اس نے خلا کا چکر لگایا۔ مگر اس نے یہ رپورٹ نہیں دی کہ اس نے خدا کو دیکھا ہے۔ سیاح نے بتایا کہ ایک روز گفتگو کے دوران اس کی زبان سے نکلا ؛ مائی گاڈ (My God) سیاح نے کہا کہ جب خدا کی کوئی حقیقت نہیں تو تم مائی گاڈ کیوں کہتی ہو۔ سیاح کی اس پکڑ پر لڑکی پریشان ہوگئی۔ مزید بات چیت کے بعد اس نے اقرار کیا کہ اصل بات وہی ہے جو بے اختیار میری زبان سے نکلی۔ اب اس کا مصنوعی پردہ ہٹ گیا اور اس کا حقیقی انسان سامنے آگیا۔ اس کے بعد وہ لڑکی مذکورہ سیاح سے اتنا مانوس ہوئی کہ اس نے پیش کش کی کہ وہ اس سے نکاح کر کے آئندہ زندگی اسی کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے۔ جو عقیدہ اتنی گہرائی کے ساتھ انسانی فطرت میں داخل ہو ، اس سے بڑھ کر تسخیری طاقت بلا شبہ اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader