ایک مطالعہ
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر آدمی پیدائشی مسلم ہے گاری ملر (Garry Miller) ایک امریکی عیسائی تھے ۔ وہ ایک کالج میں بائبل کے ٹیچر تھے۔ ۱۹۷۸ میں ان کو یہ خیال ہوا کہ قرآن کو پڑھ کر دیکھیں کہ اس میں کیا لکھا ہے ۔ انھوں نے قرآن اور بائبل کا تقابلی مطالعہ کیا ۔ اس مطالعہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اوپر اسلام کی حقانیت منکشف ہوگئی اور انھوں نے اسلام قبول کرلیا ۔ ان کا اسلامی نام عبد الاحد عمر ہے۔ وہ اب اپنی نومسلم بیوی کے ساتھ کناڈا میں رہتے ہیں ۔ وہ اپنے کو مذہب بدلنے والا (Convert) کہلانا پسند نہیں کرتے ۔ اس کے بجائے وہ اپنے آپ کو واپس آنے والا (Revert) کہتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے اسلام قبول نہیں کیا ہے بلکہ میں اپنے پیدائشی مذہب کی طرف واپس آیا ہوں : I haven't converted to Islam but merely reverted to my birthright religion. Muslim Journal Chicago, June 21, 1985 مذکورہ نومسلم نے جو بات کہی وہ بے حد اہم ہے ۔ اور عین قرآن وسنت کے مطابق ہے ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرت صحیحہ پر پیدا کیا ہے (الروم ۳۰) حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا خدا کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے (کُلُّ مولوود یولَدُ عَلَی الْفطرة) اس اعتبار سے ہر آدمی پیدائشی مسلم ہے۔ خدا کے کارخانے سے وہ مسلم ومومن بن کر آتا ہے ۔ اس کے بعد اس کی قومی روایات اور اس کے ماحول کے اثرات اس کو کسی اور مذہب پر ڈال دیتے ہیں ۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہے کہ اسلامی دعوت کا کام حقیقتًا لوگوں کے مذہب کو بدلنا نہیں ہے بلکہ ان کے اوپر پڑے ہوئے مصنوعی غلاف کو ہٹا دینا ہے ۔ اگر ہم ایسا کر سکیں کہ انسان کے اوپر پڑے ہوئے خارجی غلاف کو ہٹا دیں تو اس کے بعد جو انسان بچے گا وہ وہی ہوگا جس کو مومن کہا جاتا ہے ۔ ہر آدمی حقیقت کے اعتبار سے مومن ہے ، اگرچہ ظاہر کے اعتبار سے وہ کچھ اور دکھائی دیتا ہے ۔ مزید یہ کہ انسان کی یہ فطرت اسلامی دعوت کے حق میں ایک عظیم امدادی قوت ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی کے سینہ میں دین حق کا ایک مشن موجود ہے ۔ آدمی کا اندرونی شعور خود اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ یہی حق ہے اور اس کو اپنی چیز سمجھ کر اسے اختیار کر لینا چاہیے ۔ یہ اسلامی دعوت کے حق میں ایک ایسا امکان ہے جو کسی اور دعوت کو حاصل نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader