ایک مطالعہ
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
ترکی کا سبق ترکی کے عصمت انونو (۱۸۸۴ء۔ ۱۹۷۳ء) ایک فوجی افسر تھے۔ انھوں نے کمال آتاترک کا ساتھ دیا۔ آتاترک کی وفات (۱۰ نومبر ۱۹۳۸ء) کے بعد وہ ترک حکومت کے صدر مقرر ہوگئے۔ وہ کمال آتاترک کے بعد دوسرے سب سے بڑے لیڈر تھے کمال آتاترک کے مشہور چھ اصولوں میں سے ایک اصول سیکولرزم تھا۔ اس کا مطلب ان کے نزدیک محض مذہبی ناطرفداری نہ تھا۔ بلکہ جارحانہ لاندہبیت تھا۔ کمال آتاترک کے پورے دور حکومت میں اور پھر عصمت انونو کے دور حکومت میں یہی حکومت کی مستقل پالیسی رہی۔ مگر مذہب (اسلام) کے خلاف پوری حکومتی طاقت استعمال کرنے کے باوجود ترکی سے مذہب کا خاتمہ نہ کیا جاسکا۔ وہ بدستور پوری طاقت کے ساتھ زندہ رہا، یہاں تک کہ خود عصمت انونو کو اپنے آخری الیکشن کے موقع پر بہت سی مذہبی پابندیوں کو ختم کرنا پڑا، کیوں کہ اس کے بغیر وہ عوامی حمایت کی امید نہیں کرسکتے تھے۔ عصمت انونو جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آخر وقت میں انھوں نے اس معاملہ میں اپنے تجربات کا خلاصہ بیان کیا۔ ان کا یہ تجرباتی تاثر عربی رپورٹ کے مطابق یہ تھا : انی لا اکاد اصدق ما اری - لقد بذلنا میرے لیے اس کا یقین کرنا مشکل ہے جس کو میں كل ما نستطيع لانتزاع الاسلام من دیکھ رہا ہوں۔ ہم نے اپنے بس بھر تمام کوشش نفوس الاتراك وغرس مبادئ الحضارة کی کہ ترکوں کے دل سے اسلام کو نکال دیں اور الغربية مكانه ۔ فاذا بنا نفاجاً بما لم نکن اس کی جگہ مغربی تہذیب کو ان کے اندر داخل کریں۔ نتوقعه ۔ فقد غرسنا العلمانية فثمرت مگر حیرت انگیز طور پر نتیجہ ہماری توقع کے خلاف الاسلام ۔ نکلا۔ ہم نے سیکولرزم کا پودا لگایا مگر اس سے (الوعی الاسلامی، کویت، ذوالقعدہ ۱۴۰۸ھ صفحہ ۷۲) جو پھل نکلا وہ اسلام تھا۔ اسلام کی جڑیں انسانی فطرت میں گہری جمی ہوئی ہیں۔ جس طرح فطرت کو ختم نہیں کیا جاسکتا اسی طرح اسلام کو بھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام کے خادموں کو ساری کوشش دعوت کے محاذ پر کرنا چاہیے، اسلام کی حفاظت تو اپنے آپ ہورہی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader