ایک مطالعہ
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی عمل دعوتی عمل ہے کسی اجتماعی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے منظم عمل لازمی طور پر ضروری ہے۔ جب بھی ایک شخص کوئی اجتماعی نشانہ تجویز کرتا ہے تو اپنے مزاج کے مطابق ، اپنی مطلوبہ منزل تک پہونچنے کے لیے وہ ایک عمل بھی ضرور مقرر کرتا ہے۔ اس عمل کی مختلف صورتیں ہیں ۔ عمل کی ایک صورت وہ ہے جس کو متشددانہ عمل (Vioient activism) کہا جاتا ہے۔ ماضی اور حال کی تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ اس کی ایک تازہ اور قریبی مثال آزاد سکھ ریاست (خالصتان) کے حامیوں کی ہے۔ ۱۹۸۸ء - ۱۹۸۷ء میں انھوں نے پنجاب میں اسی کے مطابق عمل کیا، اگرچہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ عمل کی دوسری صورت وہ ہے جس کو غیر متشددانہ عمل (Non-violent activism) کہا جاتا ہے ۔ اس میں ہتھیار استعمال کیتے بغیر عوامی مظاہرہ اور عوامی ایجی ٹیشن کے ذریعہ فریق ثانی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ فریق اول کے مطالبات کو مان لے۔ مہاتما گاندھی نے ۱۹۴۷ء سے پہلے انگریزوں کے خلاف اسی طریقہ کو استعمال کیا ، اور کامیابی حاصل کی ۔ عمل کی تیسری صورت وہ ہے جس کو سیاسی عمل (Political activism) کہا جا سکتا ہے ۔ اس کی ایک واضح مثال الکشن کی سیاست ہے۔ الکشن کے موقع پر مخالف پارٹیاں اسی طریقہ کو استعمال کرکے حکمراں پارٹی کو گراتی ہیں ۔ اور حکومت کے ایوان پر قبضہ حاصل کرتی ہیں ۔ عمل کے ان طریقوں میں سے کوئی بھی طریقہ اسلام کے مزاج کے مطابق نہیں۔ اسلام کا طریقِ عمل جو قرآن وسنت سے معلوم ہوتا ہے وہ دعوت ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو دعوتی عمل (Dawah activism) کہا جا سکتا ہے ۔ اس طریقہ میں سارا انحصار سنجیدہ ذرائع پر کیا جاتا ہے ۔ منوانے کے بجائے متاثر کرنا ۔ ہرانے کے بجائے دل جیتنا ۔ حریف اور رقیب بننے کے بجائے ہمدرد اور ناصح بن کر سامنے آنا۔ فریق ثانی سے نفرت کرنے کے بجائے اس سے محبت کرنا ، یہاں تک کہ اس کے حق میں دعائیں نکلنے لگیں دعوت خیر خواہی کا نام ہے نہ کہ مقابلہ آرائی کا۔ یہ دعوتی عمل ہی صحیح اسلامی عمل ہے ۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کو اختیار کر کے مسلمان کامیاب ہو سکتے ہیں ، موجودہ دنیا میں بھی اور آئندہ آنے والی ابدی جنتوں کی دنیا میں بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader