ایک مطالعہ
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
مَنْ نَحْنُ ستمبر ۱۹۸۲ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں سعودی عرب کے ایک سفر پر تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک عرب عالم سے ہوئی ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے اپنے ایک مقالہ کا ذکر کیا جو انھوں نے کسی عربی ماہنامہ میں چھپوایا تھا ۔ اس مقالہ کا عنوان تھا : مَنْ نَحْنُ (ہم کون ہیں) ، انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے معاملہ پر اظہار خیال کرنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں مسلمان کی شخصیت (Identity) کا تعین کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ موجودہ دنیا میں ان کی حیثیت کیا ہے ۔ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے بعد ہی ہم مسلمان کے لیے صحیح راہ عمل کا تعین کر سکتے ہیں ۔ عرب عالم کی یہ بات انتہائی حد تک درست ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ” ہم کون ہیں “ کا جواب معلوم کرنے کے بعد ہی اس سوال کا جواب متعین کیا جا سکتا ہے کہ ” ہم کیا کریں “ قومی شخصیت کی صحیح نشاندہی کے بعد ہی قومی لائحہ عمل کی صحیح نشان دہی کی جاسکتی ہے ، نیز اسی سے ہمیں وہ معیار حاصل ہوتا ہے جس کے ذریعہ جانچ کر معلوم کیا جا سکے کہ مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ از روئے واقعہ صحیح ہے یا غلط ۔ ایک مثال اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں میں امریکہ کی مثال دوں گا ۔ ” مَن نَحْنُ “ کا جو سوال ہمارے لیے ہے ، وہی دوسرے انسانی گروہوں کے لیے ہے ۔ چنانچہ امریکہ کے سامنے بھی یہی سوال تھا ۔ امریکہ کے ۳۰ ویں صدر سٹرا کالون کولج (Calvin Coolidge) جو ۱۹۲۳ء سے ۱۹۲۹ تک امریکہ کے صدارتی منصب پر تھے ، انھوں نے اس کا جواب ان لفظوں میں دیا تھا کہ امریکہ کا کام تجارت کرنا ہے : The business of America is business. امریکہ نے تجارت (بزنس) کو اپنا مقصد بنایا اور اپنے آپ کو پوری طرح اس میں لگا دیا۔ اس میں اس کو اتنی زبردست کامیابی ہوئی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد تقریباً ۲۵ سال تک وہ تنہا اقتصادی دنیا کا شہنشاہ بنا رہا۔ تمام اعلیٰ ٹیکنالوجی، نیوکلیئر انرجی سے لے کر مائیکرو الیکٹرانکس تک، امریکہ کے قبضہ میں تھی ۔ مگر ۱۹۷۰ء کے بعد حالات میں تبدیلی شروع ہوئی۔ وہ مسلسل بڑھتی رہی ۔ یہاں تک کہ ۱۹۸۸ء میں یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader