Urdu book · دین کامل

ایک مطالعہ

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

تبدیلی اس نوبت کو پہنچ گئی کہ امریکہ کے لیے اس پر سوچ بچار کرنا ضروری ہو گیا۔ تازہ صورت حال یہ ہے کہ جاپان، ویسٹ جرمنی اور ساؤتھ کوریا عالمی مارکیٹ پر چھاگئے ہیں۔ آج سیمی کنڈکٹر (Semi conductor) کا بزنس زیادہ تر جاپان کے ہاتھ میں ہے ۔۔ ۱۹۷۴ تک دنیا بھر کے ہوائی جہازوں کا ۹۵ فی صد حصہ امریکہ سے آتا تھا ، آج مختلف مغربی ممالک اس صنعت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ برطانیہ کی ایربس نے ہوائی جہاز کی تقریباً ۲۰ فی صد مارکیٹ پر قبضہ کر لیا ہے ، وغیرہ ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ کا تجارتی توازن (Trade balance) بگڑ گیا ۔ ۱۹۸۸ میں مغربی یورپ کے مقابلہ میں امریکہ کا ڈیفیسٹ ۳۰ بلین ڈالر تھا اور جاپان کے مقابلہ میں امریکہ کا ڈیفیسٹ ۶۰ ملین ڈالر تھا۔ امریکی مدیرین کے پاس اپنے معاملہ پر غور کرنے کے لیے ایک معیار موجود تھا ۔ اور وہ بزنس تھا۔ انھوں نے بزنس کے معیار پر اپنے آپ کو جانچنا شروع کیا۔ وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ڈیفنس ریسرچ اور فوجی اہمیت کے سامانونکے تیاری میں ان کے غیر معمولی جھکاؤ نے یہ غیر متوازن صورت پیدا کر دی ہے ۔ مثلاً امریکہ نے ۱۹۸۱ میں اپنے بجٹ کا نصف حصہ ڈیفنس سے تعلق رکھنے والی صنعتوں پر خرچ کیا۔ ۱۹۸۶ میں یہ خرچ ۷ فیصد تک پہنچ گیا، جب کہ اسی مدت میں، مثال کے طور پر، جاپان نے اپنے بجٹ کا صرف ۲ ۔ ۵ فی صد سالانہ ڈیفنس ریسرچ پر خرچ کیا۔ امریکہ بم اور میزائل جیسی چیزیں بنانے میں مصروف رہا، اور دوسرے ممالک کار اور کمپیوٹر جیسی چیزیں بنانے میں لگے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ نے اگر چہ فوجی ٹکنالوجی (Military technology) میں ترقی کی مگر تجارتی ٹکنالوجی (Commercial technology) میں وہ دوسرے ملکوں سے پیچھے ہو گیا ۔ امریکہ کے پاس اپنے قومی نفع اور نقصان کو جانچنے کا جو معیار تھا ، اس کے لحاظ سے یہ صورت حال اس کے لیے ناقابل قبول تھی۔ چنانچہ انھوں نے اپنی پالیسی کا رخ بالکل بدل دیا۔ اگست ۱۹۸۸ میں امریکی کانگریس نے ایک نیا تجارتی قانون (1988-US Trade Bill) پاس کیا جس کے مطابق امریکہ میں اقتصادی عمل کا رخ بالکل بدل دیا گیا ۔ اس سے پہلے امریکہ اپنے بجٹ کا زیادہ حصہ ملٹری ٹکنالوجی کو ترقی دینے پر خرچ کرتا تھا ۔ اب امریکہ اپنے بجٹ کا زیادہ حصہ کمر شیل ٹکنالوجی کی ترقی میں خرچ کرے گا (ٹائمز آف انڈیا ۷ ستمبر ۱۹۸۸) موجودہ امریکی صدر رونالڈ ریگن اس سے پہلے سوویت روس سے شدید نفرت کرتے تھے۔ ان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page