حصہ دوم
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
مشکل کام تھا۔ اس کے لیے صحابہ والا ایمان درکار تھا جو آدمی کی خودی کو اس سے چھین لے تاکہ وہ اپنی ذات کے باہر کی حقیقتوں کو کھلے طور پر دیکھنے لگے ۔ خدا کی نسبت سے دیکھنا حضرت ابو مسعود ایک صحابی تھے ۔ ایک بار وہ اپنے غلام پر خفا ہو گئے اور اس کو ڈنڈے سے مارنے لگے ۔ اتفاق سے اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس طرف سے ہوا۔ آپ نے دیکھا کہ ابو مسعود اپنے غلام کو مار رہے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: اعلم ابا مسعود أنَّ اللهَ اِقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا الْغُلامِ (اے ابو مسعود، جان لو کہ اللہ تمہارے اوپر اس سے زیادہ قادر ہے جتنا تم اس غلام کے اوپر قادر ہو) حضرت ابو مسعود نے جب اس تنبیہ کو سنا تو ان کے ہاتھ سے ڈنڈا چھوٹ کر گر پڑا ۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ شخص جو اس سے پہلے اپنے غلام کو مار رہا تھا، اس کے بعد کیوں ایسا ہوا کہ ڈنڈا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابو مسعود معاملہ کو پہلے بندے اور بندے کی نسبت سے دیکھ رہے تھے ۔ اب اس یاد دہانی کے بعد وہ معاملے کو خدا اور بندے کی نسبت سے دیکھنے لگے ۔ جب وہ معاملے کو بندے اور بندے کی نسبت سے دیکھ رہے تھے تو وہ اپنے اور غلام کے درمیان فرق پا رہے تھے ۔ میں مالک ہوں اور وہ ملازم ، میں طاقت ور ہوں اور وہ کمزور، میں امیر ہوں اور وہ غریب ، میں صاحب حیثیت ہوں اور وہ بے حیثیت ۔ مگر جب یہ ذہن ختم ہوا اور انہوں نے معاملہ کو خدا اور بندے کی نسبت سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ان میں اور غلام میں کوئی فرق نہیں ۔ اب انہوں نے اپنے آپ کو بھی وہیں کھڑا پایا جہاں انہوں نے اس سے پہلے اپنے غلام کو کھڑا کر رکھا تھا ۔ کیونکہ خدا کے نزدیک دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ انسانوں کے درمیان ہمیشہ فرق ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب معاملہ کو بندے اور بندے کی نسبت سے دیکھا جائے تو ایک اور دوسرے کے درمیان فرق دکھائی دیتا ہے۔ یہی فرق تمام ظلم اور فساد کا سبب ہے ۔ جو آدمی اپنے آپ کو بڑا محسوس کرتا ہے وہ چھوٹے اور کمزور پر ظلم کرنے لگتا ہے ۔ لیکن اگر معاملات کو خدا اور بندے کی نظر سے دیکھا جانے لگے تو سارا فرق مٹ جائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader