Urdu book · دین کامل

ایک مطالعہ

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے ناقابل تصور تھا کہ وہ ماسکو کا سفر کریں اور روسی لیڈروں سے مفاہمت کی بات کریں۔ وہ سوویت روس کو شیطانی سلطنت (Evil empire) کہا کرتے تھے۔ مگر انہوں نے سوچا کہ جب تک روس سے رقابت اور مخاصمت کا تعلق ختم نہ کیا جائے اس وقت تک ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوجی تقاضوں کو نظر انداز کر کے تجارتی ترقی کا عمل جاری کیا جائے ۔ ایک کام کو کرنے کے لیے بہر حال دوسرے کام کو چھوڑنا پڑے گا۔ چنانچہ انہوں نے سوویت روس سے مخاصمت کی پالیسی کو ترک کر کے مفاہمت (Adjustment) کی پالیسی پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ تبدیلی کے اس انقلابی عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک امریکی مدیر آرتھر شلی سنگر (Arthur Schlesinger) نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسٹر ریگن نے خود ہی رنگین ازم کو بھلا دیا ہے: Mr Reagan himself seems to have foresaken Reaganism. اس پورے عمل کا خلاصہ، ٹائم (۲۶ ستمبر ۱۹۸۸ء) کے الفاظ میں یہ ہے کہ پہلے اگر امریکہ کی توجہ صنعتوں کے فوجی بنانے (Militarization) پر لگی ہوئی تھی تو اب اس کی توجہ صنعتوں کو غیر فوجی بنانے (Demilitarization) پر مرکوز ہو گئی ہے (صفحہ ۱۹) دورِ جدید کے مسلمان امریکہ کے ساتھ اپنے حالات کے اعتبار سے جو کچھ پیش آیا، وہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ اپنے حالات کے اعتبار سے پیش آرہا ہے ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ساری دنیا میں، کہیں اپنوں کے ساتھ اور کہیں غیر اقوام کے ساتھ، لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان آج ، تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے دنیا کی سب سے زیادہ پسماندہ قوم ہیں ۔ اور اس کا سبب ان کی یہی بے معنی لڑائیاں ہیں۔ مگر امریکہ نے صرف دس سال کے تجربہ میں اپنی غلطی کو دریافت کر لیا۔ وہ اپنی قومی پالیسی کو بدل کر اپنی اصلاح کرنے میں لگ گئے ، جب کہ مسلمانوں پر ایک سو سال سے بھی زیادہ مدت گزر گئی ، مگر اب تک وہ غفلت کی نیند سے بیدار نہیں ہوئے۔ مولاناسید احمد بریلوی اور مولاناشاہ محمد اسماعیل اپنے ساتھیوں کو لے کر ۱۸۳۱ء میں پنجاب پہنچے اور مہاراجہ رنجیت سنگھ سے جنگ چھڑ دی ۔ یہ جنگ انتہائی بے معنی طور پر مسلمانوں کے بے پناہ جانی اور مالی نقصان پر ختم ہوئی ۔ ۱۸۵۰ء میں علماء ہند نے انگریزوں سے جنگ کی۔ یہ ٹکراؤ اتنا زیادہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page