ایک مطالعہ
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
غیر مساویانہ تھا اور اس میں مسلمانوں کو اتنا زیادہ نقصان اٹھانا پڑا کہ اس کے اندوہناک اثرات آج تک باقی ہیں۔ ملکی تقسیم (۱۹۴۷) کے بعد مسلمان مسلسل اکثریتی فرقہ سے جھگڑا چھیڑے ہوئے ہیں اور اس کی نہایت مہنگی قیمت فرقہ وارانہ فسادات کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ یہ قصہ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آ رہا ہے ۔ لنکا، ایریٹیریا، برما، فلپائن، موز مبیق اور اس طرح کے دوسرے مقامات پر مسلمان تعلیمی، سماجی اور اقتصادی اعتبار سے انتہائی حد تک پچھڑے ہوئے ہیں۔ اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی ملکی حکومتوں سے غیر ضروری جنگ میں مشغول ہونے کی وجہ سے تعمیر کے کاموں میں مصروف نہیں ہواتے۔ ایران و عراق آٹھ سال (۱۹۸۸ - ۱۹۸۰) تک اسلامی تاریخ کی سب سے زیادہ خونی جنگ لڑتے رہے۔ اس بے معنی جنگ نے مسلم دنیا کو تمام تعمیری شعبوں میں ناقابل بیان حد تک پیچھے کر دیا۔ اس قسم کے خونی ڈرامے ، ایک یا دوسری صورت میں ، ساری دنیا میں ہورہے ہیں ۔ انھوں نے مسلمانوں کو آخری حد تک برباد کر رکھا ہے۔ مگر انتہائی لمبی مدت گزرنے کے باوجود مسلمانوں کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اپنے معاملہ پر نظر ثانی کریں ۔ اس تباہ کن غفلت کی وجہ کیا ہے ، اس کی وجہ ، ایک لفظ میں ، یہ ہے کہ مسلمانوں نے "من نحن" کے جواب میں ایک ایسا غیر واقعی نظریہ بنا رکھا ہے جس میں انھیں اپنے یہ غلط اعمال غلط دکھائی نہیں دیتے ۔ ان کی خود ساختہ کسوٹی میں بے معنی جنگ کا نام جہاد ہے ، احمقانہ بربادی کا نام قربانی ہے ۔ نعرے اور جھنڈے کی بے فائدہ سیاست کا نام اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔ خواہ مخواہ مشتعل ہو کر لڑ مرنے کا نام شہادت ہے۔ اس بنا پر ٹکراؤ کی پالیسی انھیں غلط نظر نہیں آتی ۔ اور جو چیز آدمی کو غلط نظر نہ آئے وہ اس کو چھوڑنے کے لیے بھی تیار نہیں ہو سکتا ۔ اسی غلط فکری کا یہ نتیجہ ہے کہ مذکورہ بالا قسم کی بے فائدہ ہلاکت اور بربادی کا تنقیدی جائزہ نہیں لیا گیا بلکہ انتہائی جذباتی انداز میں اس کو گلوریفائی کیا گیا ۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سیرت سید احمد شہید ، جلد ثانی میں " شہدائے بالا کوٹ کا مقام اور پیغام " ہلاکت اور بربادی کو گلوریفائی کرنے کی یہ قسم موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے سوا اور کہیں نہیں پائی جاتی ، پوری انسانی تاریخ اس قسم کے ذہنی تعیش سے خالی ہے ۔ بربادی کو گلوریفائی کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ بربادی کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader