ایک مطالعہ
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
تشخص کی غلطی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیسا ، ایک لفظ میں ، تشخص کی غلطی کا کیسا ہے ۔ انھوں نے " من نحن " کا غلط جواب دریافت کر رکھا ہے ، اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی تمام سرگرمیاں غلط اور بے فائدہ ہو کر رہ گئی ہیں ۔ اس کا مزید نقصان یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی صحیح کسوٹی نہیں جس کے ذریعہ جانچ کر وہ اپنی غلطی کو جانیں اور اس کی تصحیح کر لیں ۔ تشخص کی غلطی کی مثالیں موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں کی تقریروں اور تحریروں سے پیش کی جاسکتی ہیں ۔ آزاد سبحانی ایک پُر جوش عالم تھے ۔ انھوں نے اپنے پیروؤں کو یہ تعلیم دی تھی کہ جب وہ آپس میں ملیں تو اس طرح ملیں کہ ایک شخص کہے " السلام علیکم ورحمتہ اللہ " دوسرا شخص جواب دے " سخن خلیفة اللہ " اپنی موجودہ صورت میں وہ ایک عجیب طریقہ معلوم ہوتا ہے ۔ مگر آج کل کے مسلمانوں کا مزاج بتانے کے لیے وہ بالکل درست ہے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے " من نحن " کا جو جواب دریافت کیا ہے ، وہ ایک لفظ میں یہی ہے کہ " سخن خلیفة اللہ " مسلمان اپنے آپ کو دنیا میں خدا کا خلیفہ ( بمعنی نائب ) سمجھتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ خدا کی طرف سے وہ اس لیے مقرر کیے گئے ہیں کہ وہ دنیا کے اوپر حکومت کریں ، خدا کی نمائندگی میں وہ ساری دنیا کے آقا و مالک بنیں ۔ یہی وہ غیر قرآنی اور غیر مسنون ذہن ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر چھایا ہوا ہے ۔ مسلمانوں کے درمیان وہی لوگ مقبولیت حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے ان کے اس مخصوص مزاج کی تسکین فراہم کریں ۔ اقبال مسلمانوں کے درمیان اسی لیے مقبول ہوئے کہ وہ مسلمانوں کو ایسی لفظی خوراک دیتے تھے جس میں ان کے اس جذبہ برتری کی پوری تسکین موجود تھی ۔ آج تمام مسلمانوں کی زبان پر اقبال کا یہ شعر ہے : سبق پڑھ پھر صداقت کا شجاعت کا عدالت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا موجودہ زمانہ کے تمام مسلم مفکرین ، ایک یا دوسرے لفظ میں ، یہی بات کہتے ہیں ۔ کسی نے دین کی تشریح اس طرح کی کہ دین کو " اسٹیٹ " کے ہم معنی بنا دیا ۔ کسی نے کہا کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد ساری دنیا میں حکومت الہیہ کا قیام ہے ۔ کسی نے مسلمانوں کے نصب العین کو اقامت دین کے لفظ میں بیان کیا ۔ مگر اس کے نیچے تشریحی نوٹ لگا دیا کہ وہ اقامت دین کا لفظ اقامت حکومت کے معنی میں استعمال کر رہا ہے ۔ میں نے ایک بار کشمیر کے ایک مسلم نوجوان سے پوچھا کہ مسلمان تعلیم اور اقتصادیات کے میدان میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader