Urdu book · دین کامل

ایک مطالعہ

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

سرگرم نہیں ہوتے۔ البتہ دوسروں سے لڑنے کے لیے وہ ہر وقت تیار رہتے ہیں ، اس کا سبب کیا ہے۔ کشمیری نوجوان نے جواب دیا : " مسلمان اپنے آپ کو ڈکٹیٹر سمجھتا ہے ؛ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ مسلمانوں کی نفسیات کو بتلانے کے لیے یہ الفاظ نہایت صحیح ہیں۔ محتسب کائنات ایک بزرگ جو آج کل مسلمانوں کے ہر حلقہ میں مقبول ہیں، اس اعتبار سے ان کو موجودہ مسلمانوں کی ایک نمائندہ شخصیت کہا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی ایک مشہور کتاب میں " دین الہی کا علم بردار اور دنیا کا محتسب" کے زیر عنوان لکھتے ہیں : " مسلمان اپنے دین کی رو سے دنیا کے محتسب اور خدائی فوجدار ہیں۔ جس دن وہ بیدار ہوں گے اور اپنا فرض منصبی انجام دیں گے ، وہ مشرق اور مغرب کی قوموں کے لیے روز حساب ہوگا " صفحہ ۳۹۴ یہی بزرگ دوسری جگہ لکھتے ہیں : " سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم آخری امت ہیں۔ ہم حامل قرآن ہیں۔ ہم داعی الی اللہ ہیں۔ ہم محتسب کائنات ہیں۔ اقبال نے ابلیس کی زبان سے یہ حقیقت ادا کروائی ہے۔ ابلیس کے سامنے اس کی مجلس شوری میں مختلف قوموں کے بارہ میں کہا گیا اور مختلف خطروں کی نشاندہی کی گئی۔ اس کی مجلس کے ارکان نے کہا کہ ہمارے نظام اور کام کو اشتراکیت سے خطرہ ہے ، ملوکیت سے خطرہ ہے۔ جمہوریت سے خطرہ ہے ۔ ابلیس نے ان تمام خطروں کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ اس کے برخلاف اس نے کہا : ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں ہے حقیقت جس کے دین کی احتساب کائنات " مسلمانوں کو حاکم اقوام سمجھنے کا ذہن تو موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم کچھ لوگوں کو " حاکم اقوام" کے لفظ میں پوری تسکین نہیں ملی۔ وہ مسلمانوں کو حاکم زمین سے آگے لے جا کر حاکم کائنات کے منصب پر بٹھانا چاہتے تھے۔ یہ ضرورت شاعر نے اپنی قوت تخئیل سے ابلیس کی مجلس شوری منعقد کر کے پوری کردی۔ اب ابلیس کے مفروضہ کلام کی بنیاد پر اعلان کر دیا گیا کہ مسلمان محتسب کائنات ہیں ۔ کیسا عجیب ہے مسلمانوں کا وہ اسلامی منصب جس کا ماخذ خدا ورسول کے کلام میں موجود نہ ہو۔ البتہ وہ ابلیس کے کلام سے شاندار طور پر برآمد ہو جائے۔ پورے قرآن میں یا تمام کتب حدیث میں کہیں بھی یہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ " مسلمان محتسب کائنات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page