Urdu book · دین کامل

ایک مطالعہ

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں ۔ " تاہم جو لوگ مسلمانوں کو اس کائناتی منصب پر دیکھنا چاہتے تھے ، انھوں نے ابلیس کے مفروضہ کلام سے اس کو برآمد کر لیا ۔ غالباً ان کا بڑا ہوا شوق یہ سمجھنے میں رکاوٹ بن گیا کہ مسلمانوں کا اسلامی منصب خدا اور رسول کے کلام سے نکلے گا نہ کہ ابلیس کے کلام سے ۔ حاکمانہ حیثیت اب سوال یہ ہے کہ اس نظریہ کا ماخذ کیا ہے کہ مسلمان حاکم اقوام ہیں۔ یہاں بھی قرآن و حدیث کا پورا ذخیرہ ایسے کسی جملہ سے خالی ہے جس کا ترجمہ یہ ہو کہ " مسلمان حاکم اقوام ہیں "۔ پھر یہ نظریہ کہاں سے اخذ کیا گیا ، اس کو سمجھنے کے لیے مذکورہ بزرگ کی ایک کتاب کی حسب ذیل عبارت پڑھیے : " جہاں تک کسی ملک میں مسلمانوں کے رہنے، وہاں ان کی حیثیت اور ان کے فرائض منصبی کا سوال ہے، تو تاریخ اسلام کے طویل سلسلہ اور فقہ اسلامی کے وسیع ذخیرہ میں اس کے دو نمونے ملتے ہیں۔ پہلا نمونہ یہ ہے کہ مسلمان حاکمانہ حیثیت میں ہوں اور وہ ملک اسلامی حکومت کے زیر اقتدار ہو، جیسا کہ خلافت راشدہ کے بعد رومی و ایرانی شہنشاہیاں اور ان کے ممالک مسلمانوں کے زیر نگیں آئے۔ اور مسلمان جزیرۃ العرب سے لے کر مراکش تک پھیل گئے ۔ انھوں نے افریقہ کی پوری شمالی مغربی پٹی فتح کر لی اور اس کے آگے سمندر کو عبور کر کے یورپ کے ملک اسپین پر قابض ہو گئے ۔ اس حیثیت کے متعلق صریح احکام ہیں ۔ قرآن مجید کے اشارات ہیں ۔ ہدایات ہیں ۔ صحابہ کرام کا طرز عمل ہے کہ ایسے موقع پر مسلمانوں کا منصب کیا ہے ، مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔ دوسری شکل یہ ہے کہ مسلمان کسی جگہ مختصر و محدود اقلیت میں ہوں ۔ وہ اس ملک کے حالات پر مطلقا اثر انداز نہ ہو سکتے ہوں ۔ ان کا ملک سے نظم و نسق میں کوئی حصہ نہ ہو۔ وہ خالص محکومانہ زندگی گزاررہے ہوں"۔ صفحہ ۸-۹ اس عبارت میں اگرچہ دو نمونوں کا ذکر ہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ موصوف کے بیان کے مطابق اصل نمونہ صرف ایک ہے ، اور وہ " حاکمانہ حیثیت " ہے ۔ کیوں کہ دوسرا نمونہ ( محکومانہ حیثیت) بذات خود کوئی مستقل نمونہ نہیں ۔ وہ در اصل مطلوب حاکمانہ حیثیت کے فقدان سے پیدا ہونے والی غیر مطلوب صورت حال کا نام ہے ۔ اس " حاکمانہ نمونہ " کا ماخذ کیا ہے ، اس کا جواب مذکورہ عبارت کے فقرہ (خلافتِ راشدہ کے بعد) میں موجود ہے ۔ یہ فقرہ بتاتا ہے کہ موصوف اسلام کی تاریخ کو " خلافت راشدہ کے بعد "

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page