Urdu book · دین کامل

ایک مطالعہ

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

سے شروع کر رہے ہیں ۔ ان کے نزدیک اسلامی تاریخ نام ہے فتوحات ملکی اور حکومت اقوام کا ۔ اس لیے انھیں اسلام کی تاریخ میں ایک ہی اعلیٰ مطلوب نمونہ ملتا ہے اور وہ " حاکمانہ حیثیت " کا ہے ۔ یہ بلاشبہ ہمالیہ پہاڑ سے زیادہ بڑی غلطی ہے ۔ کیوں کہ اسلام کی تاریخ حرا کے بعد سے شروع ہوتی ہے نہ کہ خلافت کے بعد سے ۔ اسلام کی تاریخ مکہ میں اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت توحید کا آغاز کیا ۔ مذکورہ بزرگ اگر اسلامی تاریخ کو مکہ سے شروع کرتے تو انھیں سب سے پہلے داعی کا نمونہ ملتا ۔ مگر جب انھوں نے اسلام کی تاریخ کو " خلافت راشدہ کے بعد " سے شروع کیا تو قدرتی طور پر حکومت اور کشور کشائی کے واقعات مسلمانوں کی اصل شناخت بن گئے ۔ اسلام کی تاریخ میں دعوت اور داعی کا نمونہ ٹی ڈپلو آرنلڈ کو اتنا نمایاں طور پر نظر آیا کہ انھوں نے " پریچنگ آف اسلام " کے نام سے ۵۰ صفحات کی ایک مستقل کتاب لکھ کر شائع کر دی ۔ مگر مسلم مفکرین کو اسلام کی تاریخ میں صرف حاکم کا نمونہ نظر آیا ۔ داعی کا نمونہ نظر نہیں آیا ۔ کیسا عجیب ہے یہ شرق جو ایک مسلم مصنف اور ایک عیسائی مصنف کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ شاید اس لیے کہ مسلم مصنف نے اسلامی تاریخ کو متاثر ذہن کے تحت دیکھا اور عیسائی مصنف نے غیر متاثر ذہن کے تحت ۔ دعوہ بلائنڈ آنکھ کی بیماریوں میں سے ایک بیماری رنگ کا اندھا پن (Colour blindness) ہے۔ جو آدمی اس بیماری میں مبتلا ہو اس کو رنگ کا اندھا (Colour blind) کہا جاتا ہے ۔ یہ بیماری عام طور پر آنکھ کا پردہ (Retina) میں خرابی سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس بیماری سے متاثر افراد بعض رنگوں کو دیکھتے ہیں مگر بعض دوسرے رنگ انھیں دکھائی نہیں دیتے ۔ رنگ کے یہ اندھے مختلف قسم کے ہوتے ہیں ۔ مثلاً کوئی شخص لال رنگ کا اندھا (Red blind) ہوتا ہے ، کوئی نیلے رنگ کا اندھا (Blue blind) اور کوئی ہرے رنگ کا اندھا (Green blind) جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہوں وہ اپنے مبتلائے مرض ہونے سے مکمل طور پر بے خبر رہتے ہیں ۔ وہ انھیں رنگوں کو جانتے ہیں جو ان کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں ۔ جس رنگ کو ان کی آنکھیں دیکھ نہ رہی ہوں ، وہ سادہ طور پر سمجھ لیتے ہیں کہ ایسے کسی رنگ کا وجود ہی نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page