ایک مطالعہ
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ مسلمانوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی شاید اسی قسم کے مریض بن گئے ہیں۔ اس اعتبار سے ان کو دعوت کا اندھا (Dawah blind) کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کو ہر چیز نہ دکھائی دیتی ہے، مگر ایک چیز انھیں بالکل دکھائی نہیں دیتی۔ یہ دعوت کا کام اور اس کے مواقع ہیں۔ اس مرض میں مسلمانوں کے اکابر بھی اتناہی مبتلا ہیں جتنا کہ ان کے اصاغر۔ جو لوگ رنگ کے اندھنے پن میں مبتلا ہوں وہ لال ، نیلا ، ہرا ، جیسے الفاظ کو سن کر یا پڑھ کر یاد کر لیں گے۔ ان کو اپنی زبان سے دہرائیں گے مگر وہ ان کی حقیقت سے مکمل طور پر بے خبر رہیں گے۔ یہی حال ان مسلمانوں کا ہے جو دعوت کے اندھے (دعوہ بلائنڈ) ہو گئے ہوں ۔ وہ دعوت کا لفظ بولیں گے مگر دعوت کی حقیقت اور اس کی نوعیت کی انھیں کوئی خبر نہ ہوگی۔ وہ ایک طرف دعوت کا نام لیں گے اور اسی کے ساتھ ایسی باتیں کہیں گے جن کا دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔ حتی کہ ایسی باتیں بھی جو دعوت اور دعوتی مصالح کے سراسر خلاف ہیں۔ دعوہ بلائنڈ ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کو قرآن وحدیث میں قتال فی سبیل اللہ کے احکام دکھائی دیتے ہیں مگر انھیں دعوت الی اللہ کے احکام نظر نہیں آتے۔ مسلمانوں کا ”منصب و مقام“ بتانے کے لیے انھیں قائدانہ الفاظ مل جاتے ہیں، مگر اس کے لیے انھیں داعیانہ الفاظ نہیں ملتے۔ تاریخِ اسلام اور فقہ اسلامی کے ذخیرہ میں وہ حاکمانہ حیثیت کے نمونے پالیتے ہیں مگر ان کو اس کے وسیع ذخیرہ میں داعیانہ زندگی کے نمونے نہیں ملتے۔ انھیں دار الاسلام اور دار الحرب کی اصطلاحیں معلوم ہیں مگر دار الدعوہ کی اصطلاح ان کے لیے اجنبی ہے۔ اسلام کی تاریخ میں وہ فتوحات ملکی کے واقعات دیکھتے ہیں مگر تسخیر قلوب کے واقعات انھیں نظر نہیں آتے۔ ان کو مسلمانوں کا وہ زمانہ دکھائی دیتا ہے جب وہ تختِ حکومت پرتھے مگر انھیں وہ زمانہ دکھائی نہیں دیتا جب مسلمان خدا کے بندوں کے سامنے خدا کے دین کے داعی بنے ہوئے تھے۔ یہ مسلمانوں کی ایک نئی قسم ہے جو موجودہ زمانہ میں وجود میں آئی ہے۔ اس کو ایک لفظ میں دعوت کا اندھا (Dawah blind) کہا جا سکتا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ مسلمان ہر دوسری بات کو فوراً سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن اگر دعوت کی بات کیجیے یا دعوت کے مصالح ان کے سامنے بیان کیجیے تو وہ اس کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے ۔ دعوہ بلائنڈ ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کو وہ دعوتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader