Urdu book · دین کامل

شہید اور شہادت

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

مقتول ہوتا ہے۔ یعنی دشمنوں کے ہاتھ سے قتل ہو کر وفات پانے والا۔ مگر معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات طبعی موت سے ہوئی تھی، کسی دشمن کی تلوار نے آپ کو موت سے دوچار نہیں کیا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس معنی میں شہید تھے۔ آپ گواہ کے معنی میں شہید تھے ۔ آپ نے لوگوں کو خدا کے دین سے باخبر کیا، اس لئے آپ خدا کے گواہ (شہید) قرار پائے۔ چنانچہ شاہ عبدالقادر صاحب نے شہید کا ترجمہ " بتانے والا" کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہید ہونے کا مطلب آپ کا داعی ہونا ہے۔ یعنی اقوام عالم کو دین خداوندی سے باخبر کرنے والا۔ مگر یہ کام لوگوں کو اتنا عظیم معلوم نہیں ہوتا جتنا کہ شہادت اپنے موجودہ معروف معنی میں بظاہر عظیم ہے۔ کسی شخص کو مبلغ کہیں تو وہ ایک غیر اہم لقب معلوم ہوتا ہے۔ مگرجس شخص کے نام کے ساتھ شہید کا لفظ لگ جائے وہ غیر معمولی عظمت حاصل کر لیتا ہے۔ وہ لوگوں کی نظر میں ہیرو بن جاتا ہے۔ "سید قطب مبلغ" میں وہ عظمت نہیں جو "سید قطب شہید" میں بر بنائے استعمال پائی جاتی ہے۔ حسن البنا مبلغ میں وہ بات نہیں جو حسن البنا شہید میں ہے۔ شاہد، مشہود دعوت کا عمل جو دنیا میں کیا جاتا ہے، آخری اعتبار سے اس کا مقصد یہ ہے کہ قیامت کے لئے گواہ حاصل کئے جائیں۔ قیامت میں جب تمام انسان خدا کے سامنے حاضر کئے جائیں گے، اس وقت تمام انسانوں کا معاملہ خدا کی عدالت میں پیش ہوگا۔ اگر چہ خدا کو ہر ایک کا ذاتی علم ہے۔ تاہم وہ لوگوں کے اوپر گواہ کھڑا کرے گا، جو وہاں بتائیں گے کہ دعوت حق کے مقابلہ میں کس نے کیا رویہ اختیار کیا۔ کس نے مانا اور کس نے نہیں مانا۔ قرآن میں اس عمل کو شہادت کہا گیا ہے اور اس عمل کو انجام دینے والے کے لئے شاہد یا شہید کا لفظ آیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوا ہے کہ اسی طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنایا ، تا کہ تم لوگوں کے اوپر گواہ بنو اور رسول تمہارے اوپر گواہ بنے (وکذالك جعلناكم امة وسطالتكونوا شهداء علی الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا)، البقره (۱۴۳) دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ تاکہ رسول تمہارے اوپر گواہ ہو اور تم لوگوں کے اوپر گواہ ہو (ليكون

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page