شہید اور شہادت
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
الرسو ل شهیداً علیکم وتكونوا شهداء على الناس ، (الحج ، ۷۸) اس طرح تمام انسان اللہ کی نظر میں دو طبقوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ شہادت دینے والے ، اور وہ لوگ جن کے اوپر شہادت دی جائے۔ اول الذکر کو قرآن میں شاہد کہا گیا ہے، اور ثانی الذکر کو مشہود (والسماء ذات البروج - واليوم الموعود وشاهد ومشھود) شاہد اور مشہود کی تفسیر میں ایک حوالہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: قيل الشاهد هذه الامة والمشہو کہا گیا ہے کہ شاہد سے مراد امت محمدی ہے اور مشہود سائر الامم (صفوة التفاسير) سے مراد تمام دوسری قومیں ۔ شاہد ، مشہود کو دوسرے لفظوں میں داعی ، مدعو کہا جاسکتا ہے۔ سورہ ق میں ہے کہ قیامت میں ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک سائق (ہنکانے والا ) ہوگا۔ اور ایک شہید (گواہی دینے والا)۔ وجاءت كل نفس معها سائق و شهيد ۔ یہاں سائق سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد وہ انسانی داعی جس نے دنیا میں اس کے اوپر حق کی گواہی دی تھی۔ بعض حدیثوں میں ” شہید “ کا لفظ مقتول فی سبیل اللہ کے معنی میں آیا ہے۔ یہ شہید کے لفظ کا ” مفہوم ثانی “ نہیں ہے۔ یہ دراصل شہادت کے قرآنی مفہوم کی توسیع ہے۔ قرآن میں شہادت کا لفظ گواہی کے معنی میں آیا ہے۔ اور شہید کا لفظ گواہ کے معنی میں۔ یہ گواہی کس چیز کی ہے۔ یہ خدائی حقیقتوں کی گواہی ہے۔ یہ دنیا کو اس بات سے باخبر کرنا ہے کہ اللہ تعالی کا تخلیقی منصوبہ کیا ہے۔ اور وہ آخر کار انسانوں سے کیا معاملہ فرمانے والا ہے۔ جو لوگ دنیا میں اس طرح خدا کی گواہی دیں گے ، ان کو آخرت میں یہ اعزاز دیا جائے گا کہ وہ آخرت کی خدائی عدالت میں لوگوں کے اوپر سرکاری گواہ کی حیثیت سے کھڑے کئے جائیں گے ( و يوم يقوم الاشهاد ، ۴۰ : ۵۱) خدا کی طرف سے اس کا گواہ بننا ، یہی موجودہ دنیا میں اہل اسلام کا اصل مشن ہے۔ ابتدائی طور پر یہ کام اعلان و تبلیغ کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے ۔ تا ہم بعض اوقات گواہی کے اس عمل میں اپنی جان بھی دینی پڑتی ہے۔ یہ جان دینے والا گواہ بھی شہید ہے۔ جس طرح جان نہ دینے والا گواہ شہید ہے ۔ تا ہم جان دینے والا زیادہ افضل شہید نہیں۔ اگر یہ افضل شہادت ہوتی تو پیغمبر کو ضرور یہ افضلیت دی جاتی ، کیوں کہ قرآن سے ثابت ہے کہ آپ کامل معنی میں شہید تھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader