شہید اور شہادت
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص گواہی ، بالفاظِ دیگر ، خدائی حقیقت کے اعلان کے لئے اٹھتا ہے ۔ لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔ وہ اس کو شاعر اور دیوانہ کہتے ہیں ۔ وہ اس کو ہر قسم کی تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود وہ شخص اپنے مقصد سے نہیں ہٹتا ۔ وہ دوسروں کی جارحیت کا شکار ہوتا ہے ، پھر بھی وہ اپنی بات کو نہیں بدلتا ۔ حتیٰ کہ اسی راہ میں اپنی جان کھو بیٹھتا ہے ۔ ایسی حالت میں جب وہ اپنی جان دیتا ہے تو گویا وہ اپنے مقصد پر یقین کا آخری ثبوت دیتا ہے ۔ قومی اور سیاسی لڑائیوں میں لڑ کر ہلاک ہونے کا نام شہید ہونا نہیں ہے ۔ یہ بھی شہادت نہیں ہے کہ کوئی شخص حکمراں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی ہم چلائے اور حکمراں اس سے بگڑ کر اس کو سولی پر چڑھا دے یا گولی مار کر ہلاک کر دے تو اس کے معتقدین اس کے نام کے ساتھ شہید کا لقب شامل کر کے اس کو شہید کہنے لگیں ۔ شہید در اصل گواہی کے عمل میں اپنے کو قربان کرنے کا نام ہے نہ کہ قومی اور سیاسی لڑائی لڑ کر اس میں اپنے آپ کو ہلاک کرنے کا ۔ شہید دنیوی لقب نہیں آج کل یہ حال ہے کہ جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو اس کے نام کے ساتھ ” مرحوم و مغفور “ کا لفظ لگا دیتے ہیں ۔ مگر سلف کا یہ طریقہ نہ تھا ۔ علما سلف ” غفر اللہ “ جیسے الفاظ بولتے تھے ۔ غفر اللہ لہ ایک دعائیہ کلمہ ہے ۔ یعنی اللہ اس کی مغفرت فرمائے ۔ جب کہ مرحوم و مغفور کے الفاظ ہونے والے واقعہ کو بتاتے ہیں ۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ فلاں شخص کی رحمت ومغفرت ہو چکی ۔ حالانکہ یہ واقعہ صرف اللہ کے علم میں ہے ۔ انسان صرف دعا کرنے کا حق رکھتا ہے ، وہ اس کو واقعہ کے طور پر بیان نہیں کر سکتا ۔ یہی معاملہ شہید ( بمعنی مقتول فی سبیل اللہ ) کا بھی ہے ۔ دین میں تمام اعمال و درجات کا مدار نیت پر ہے ۔ اسی طرح شہید وہ شخص ہے جو باعتبار نیت شہید قرار دئے جانے کا مستحق ہو ۔ چونکہ نیت کا حال صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے اس لئے اللہ ہی کسی کو شہید قرار دینے کا حق رکھتا ہے ۔ انسان کے لئے جائز نہیں کہ وہ بطور خود کسی کو شہید کہنے لگے ۔ امام بخاری نے اپنی کتاب جامع صحیح میں ایک باب ان الفاظ کے ساتھ قائم کیا ہے : لا یقول فلان شہید ( یہ نہ کہے کہ فلاں شہید ہے ) اس کی تشریح حافظ ابن حجر نے اس طرح کی ہے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader