Urdu book · دین کامل

شہید اور شہادت

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

لا يقول فلان شهيد اى على سبيل القطع الا ان كان بالوحى اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص قطعیت کے ساتھ یہ نہ کہے کہ فلاں آدمی شہید ہے، سو اس کے کہ وہ وحی کی بنیاد پر ہو۔ حضرت عثمان بن مظعون رض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے تھے۔ ام علاء انصاریہ کہتی ہیں کہ عثمان بن مظعون کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ کی موجودگی میں میں نے ان کی نعش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے ابو سائب، تم اللہ کے یہاں معزز و مکرم ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا : وما يدريك ان الله اكرمه تمھیں کیا معلوم کہ اللہ نے ان کو معزز و مکرم کیا ہے، ایک شخص بطور دعا کہہ سکتا ہے کہ فلاں آدمی کو اللہ تعالیٰ شہادت کا درجہ نصیب کرے۔ مگر یہ کہنا حد بندی سے تجاوز کرنا ہے کہ فلاں شخص شہید ہو گیا۔ امام بخاری نے لا یقول فلان شہید کے باب کے تحت یہ حدیث نقل کی ہے کہ ایک آدمی بظاہر اہل جنت کا عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے۔ اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کا عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کا کام صرف دعا ہے نہ کہ نتیجہ کا اعلان۔ دین میں بدعت حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ہمارے اس دین میں نئی بات نکالے جو کہ اس میں نہ ہو تو وہ قابل رد ہے (من احدث فی امرنا هذا مالیس منه فهو ردّ، متفق عليه) ایک چیز ہے امر دین۔ دوسری چیز ہے وسیلہ دین۔ جہاں تک امر دین کا تعلق ہے، اس میں کسی بھی قسم کا اضافہ سراسر ممنوع ہے۔ مثلاً کوئی شخص مغرب کی نماز تین کے بجائے چار رکعت پڑھے یا روزہ کو قمری مہینہ کے بجائے شمسی مہینہ میں قائم کرے۔ تو ایسا کرنا ناجائز نہ ہوگا۔ اس قسم کی ہر چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے (اِيَّاكُم ومحدثات الامور فان كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة) مگر جو چیزیں وسیلہ اور ذریعہ کی حیثیت رکھتی ہوں، وہ اس فہرست میں نہیں آتیں ۔ مثلاً اونٹ کے بجائے مشینی سواری کے ذریعہ سفر حج۔ منھ سے چیخنے کے بجائے آلہ مکبر الصوت استعمال کرنا، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزیں وسائل کی حیثیت رکھتی ہیں، اور وسائل میں نئی چیزوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page