Urdu book · دین کامل

شہید اور شہادت

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

کو اختیار کرنا جائز بھی ہے اور مطلوب بھی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں بہت سی بدعات رائج ہوگئی ہیں اور بعض جماعتیں ان کے خلاف زبان و قلم کے ذریعہ جہاد کرنے میں مصروف ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ خود یہ مجاہدین سنت بھی بہت سی بدعات میں مبتلا ہیں ، اور وہ جن بدعات میں مبتلا ہیں ان کا نقصان معروف بدعتوں سے کسی طرح کم نہیں۔ انھیں بدعتوں میں سے ایک بدعت وہ ہے جو شہید کے لفظ کے بارہ میں اختیار کی گئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں بہت سے لوگ ہیں جن کے نام کے ساتھ شہید کا لفظ لکھا جاتا ہے۔ اس استعمال نے ان کی شخصیت کو غیرمعمولی عظمت عطا کی ہے۔ مثلاً سید احمد شہید ، سید اسماعیل شہید ، سید قطب شہید حسن البنا شہید ، وغیرہ۔ یہ طریقہ سراسر بدعت ہے۔ اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ دور اول میں موجود نہ تھا۔ دور اول میں ہزاروں صحابہ ہیں جنھوں نے اللہ کی راہ میں جان دی۔ مگر ان میں سے کسی کے نام کے ساتھ بھی لفظ شہید کو شامل نہیں کیا گیا۔ مثلاً حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی کی وفات طبعی موت سے نہیں ہوئی بلکہ ظالموں کی تلوار سے ہوئی ۔ مگر صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کو عمر شہید، عثمان شہید اور علی شہید کہا جائے ۔ اسی طرح حضرت حسین کو قدیم زمانہ میں کبھی حسین شہید نہیں کہا گیا۔ حضرت یحییٰ بن زکریا پیغمبر تھے ۔ اور ان کی وفات ایک ظالم کی تلوار سے ہوئی۔ مگر قرآن میں ان کو یحییٰ شہید نہیں کہا گیا۔ وغیرہ وغیرہ بدعت سے سنت کا خاتمہ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی گروہ جب کوئی بدعت نکالتا ہے تو اسی کے بقدر سنت اس سے اٹھالی جاتی ہے۔ ایک سنت کو پکڑتے رہنا ایک بدعت کو نکالنے سے بہتر ہے ( ما احدث قوم بدعة الا رفع مثلها من السنّة فتمسك بسنة خير من احداث بدعة ( رواه احمد ) بدعت سرے سے کوئی نئی چیز نہیں ہوتی۔ وہ دین ہی کی کسی چیز کو نئی حیثیت اور نئی اہمیت دینے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلم گروہ میں جب کوئی بدعت رائج ہوتی ہے تو دین کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page