Urdu book · دین کامل

شہید اور شہادت

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

توازن ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک چیز کا درجہ بڑھانا، دوسری چیز کا درجہ گھٹانے کے ہم معنی بن جاتا ہے حتیٰ کہ اگر بدعت میں زیادہ غلو کیا جائے تو بات توازن ٹوٹنے سے بھی آگے بڑھ جاتی ہے۔ اب ایک بدعت کا آنا ایک سنت کے چلے جانے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال شہادت کا مسئلہ بھی ہے" شہید" کے معاملہ میں بدعت کے رواج کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایک اہم ترین سنت غیر ابہم بن کر مسلمانوں کے درمیان عملاً حذف ہوگئی ہے۔ یہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ دعوت بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی سنت ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں سرے سے اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ اس کی کم از کم ایک بڑی وجہ "شہید" کا موجودہ تصور ہے۔ شہید (یعنی مقتول) کے معاملہ کو اتنا زیادہ بڑھایا گیا کہ اب شہید تو لوگوں کو ہیرو معلوم ہوتا ہے۔ مگر داعی انہیں ہیرو دکھائی نہیں دیتا۔ مزید یہ کہ اس بندعانہ تصور نے مسلمانوں کو اپنی مدعو اقوام سے ہر جگہ برسر جنگ کر دیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں یہ قومیں اسلام سے متوحش ہو کر دور ہوتی جارہی ہیں۔ گویا مبتد عانہ شہادت کا عمل جاری کرنے میں حقیقی شہادت کا عمل غائب ہوگیا۔ دین کی اجنبیت آج جب یہ بات کہی جاتی ہے تو وہ لوگوں کو بہت عجیب معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ عین وہی صورت حال ہے جس کی پیشین گوئی حدیث میں بہت پہلے کر دی گئی تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، اور وہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا (بدأ الاسلام غريباً وسيعود كما بدأ، مسلم) اس قول رسول کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے لوگ اپنے بگڑے ہوئے دین سے اتنا مانوس ہو جائیں گے، وہ ان سے اتنا زیادہ وابستہ ہو چکے ہوں گے کہ جب اصل دین ان کے سامنے دوبارہ لایا جائے گا تو وہ اس کی اہمیت کو محسوس نہ کر سکیں گے۔ وہ اس کو کچھ اور چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے۔ اپنے بنائے ہوئے دین سے مانوس ہونے کی وجہ سے وہ خدا اور رسول کے دین کو اجنبی محسوس کرنے لگیں گے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت کے برابر بھی جدا ہوا، اس نے اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے نکال پھینکا (من فارق الجماعة شبراً فقد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page