Urdu book · دین کامل

شہید اور شہادت

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

خلع ربقة الاسلام من عنقه یہاں جماعت سے مراد معیاری جماعت ہے، یعنی اصحاب رسول۔ اسی بنا پر صحابہ کرام کو قُدوۃ کہا گیا ہے۔ اس سے مراد ہر زمانہ کے مسلمانوں کا گروہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ الجماعت (صحابہ رسول کے مسلک) سے ذرا بھی نہیں گے وہ گمراہی کے گڑھے میں جاگریں گے اور سچے اسلام سے دور ہو جائیں گے۔ قرون مشہود لہا بالخیر میں بے شمار لوگوں کے ساتھ اس قسم کے واقعات پیش آئے۔ خدا کے دشمنوں نے ان کو اپنی تلوار کا نشانہ بنایا مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بولنے یا لکھنے والے جب ان کا نام لیں تو ان کو فلاں شہید یا فلاں ابن فلاں شہید کہیں ۔ وہ سادہ طور پر ان کا اصل نام لیتے تھے اور بس۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت کے مطابق امور دین حقیقہ وہی ہیں جن کی مثالیں دور اول میں قائم ہو چکی ہیں۔ بعد کے لوگوں کو خالص تقلیدی انداز میں ان کی پیروی کرنی ہے۔ ان معاملات میں کسی بھی قسم کا اضافہ یا کمی یقینی طور پر بدعت ہے۔ اور ہر بدعت ضلالت ہے۔ خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی ، خواہ وہ بظاہر معصوم نظر آئے یا غیر معصوم۔ مثال کے طور پر اسی مذکورہ بدعت کو لیجئے موجودہ زمانہ میں لفظ "شہید" کو انتہائی حد تک گلور یفائی کیا گیا۔ کسی کے نام کے ساتھ لفظ شہید کا اضافہ اس کو آخری عظمت دینے کے مہم بن گیا۔ اس تعظیم و تجدید (Glorification) کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نظریں "لڑنا مرنا" سب سے بڑا اکام قرار پايا ۔ اب ہر آدمی ٹکراؤ کی باتیں کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہر آدمی قوم سے قربانی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کیوں کہ نفسیاتی طور پر وہ جانتا ہے کہ موجودہ مسلم سماج میں اس طرح وہ ہیرو کا مقام حاصل کرلے گا۔ یہ انداز سراسر بدعت ہے۔ اور اس بدعتی انداز کا نقصان موجودہ مسلمانوں کے حق میں یہ ہوا ہے کہ ان کی نگاہیں اصلی اور ابتدائی کام سے یکسر ہٹ گئی ہیں۔ مسلمانوں کے کرنے کا سب سے پہلا اور ضروری کام یہ ہے کہ ایک طرف وہ داخلی اصلاح (Internal reform) کا کام کریں اور دوسری اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دوسری اقوام کو خدا کے دین کی دعوت دیں۔ مگر موجودہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page