شہید اور شہادت
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم معاشرہ میں، مذکورہ بالا سبب سے خاموش داخلی اصلاح اور پر امن دعوتی جد و جہد ایک غیر اہم کام بن گیا۔ اس کام نے اپنے اندر سے اخباری اہمیت (News value) کھودی ہے۔ اس قسم کا کام کرنے والے کو نہ مسلمانوں کا تعاون ملتا اور نہ ان کا استقبال۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے قریب تمام مسلم رہنما داخلی اصلاح اور دعوت کے کام سے بے رغبت ہوگئے ہیں۔ ان میں سے ہر شخص ٹکراؤ کے میدان کی طرف دوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ کچھ لوگ زبان اور قلم کے ذریعہ دوسری قوموں سے ٹکراؤ کر کے "غازی" بن رہے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ با حوصلہ ہیں وہ سر گرم مقابلہ آرائی کے میدان میں کمالات دکھا کر "شہید" ، سکاٹشل پار رہے ہیں۔ حقیقتِ حال کا واقعی علم تو صرف آخرت میں سامنے آئے گا مگر ظاہری حالات واضح طور پر اس بات کا اشارہ کر رہے ہیں کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا طریقہ خدا کے منصوبہ کے مطابق نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ دور اول میں نسبتاً بہت کم اہل ایمان کی قربانی نے عالمی سطح پر انقلاب برپا کر دیا تھا۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں ان کے مقابلہ میں قربانی کرنے والوں کی تعداد سوگنا سے بھی زیادہ ہے مگر کسی محدود علاقہ میں بھی آج تک کوئی دینی انقلاب نہیں آیا۔ اگر اسلام کے نام پر لڑنا مرنا ہی وہ واحد چیز ہو جو خدا کی نصرت کو کھینچنے والی ہو تو اب تک خدا کی مدد کو موسلا دھار بارش کی شکل میں پھٹ پڑ نا چاہئے تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ "شہیدوں" کے خون سے زمین لالہ زار ہو رہی ہے اور نصرتِ خداوندی کی بارش کہیں برستی ہوئی نظر نہیں آتی۔ عملِ آخرت جیسا کہ عرض کیا گیا، قرآن و حدیث میں دعوت الی اللہ کے کام کو شہادت کہا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں پیغمبر اور آپ کی امت کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں : ويكون الرسول شهیدا علیکم وتكونوا اشهداء علی الناس (تا کہ رسول تمہارے اوپر گواہ ہو، اور تم لوگوں کے اوپر گواہ ہو) حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب (اور ان کی نیابت میں پوری امت) سے فرمایا کہ : انتم شهداء اللہ فی الارض (تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو) دعوت کے کام کو شہادت اس لئے کہا گیا کہ اس کا رشتہ آخرت سے جڑا ہوا ہے ۔ دعوت کا کام اپنے آخری اور انتہائی مرحلہ کے اعتبار سے، آخرت کی گواہی کا کام ہے۔ قرآن سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader