Urdu book · دین کامل

شہید اور شہادت

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اس لئے بھیجے کہ وہ اہل عالم کو اللہ کی مرضی سے باخبر کر دیں۔ تاکہ اللہ کے او پر بندوں کی حجت باقی نہ رہے۔ یعنی آخرت میں کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ رہے کہ ہم کو حقیقت حال سے باخبر نہیں کیا گیا تھا (النساء ، ۱۶۵) یہ لوگ جو دنیا میں خدا کے داعی بنے تھے ، وہ آخرت میں خدا کے گواہ بنیں گے۔ وہ اپنے دنیوی تجربہ کے مطابق آخرت کی عدالت میں اپنے زیر دعوت لوگوں کے بارہ میں بیان یا گواہی دیں گے ، اور انہی کے بیان یا گواہی پر لوگوں کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اسی معنی میں ”شہید“ بنے۔ اب آپ کی پیروی میں آپ کی امت کو بھی اسی معنی میں شہید بنانا ہے۔ انھیں دنیا کی قوموں سے لڑنا نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کی قوموں پر کار دعوت یا عمل شہادت انجام دینا ہے۔ ان کو یہ کرنا ہے کہ دوسری قوموں کو مدعو کا درجہ دے کر ان کے اوپر داعی کا فریضہ ادا کریں۔ مسلمانوں کو لوگوں کی روحوں کو مسخر کرنا ہے نہ کہ ان کے جسموں کو قتل کرنا۔ انھیں لوگوں کو اپنی خیر خواہی کا موضوع بنانا ہے نہ کہ اپنی دشمنی کا موضوع بنانا۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے مسلمان دنیا اور آخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ اس کو چھوڑ کر دوسرا کام کرنا ، یا کسی اور کام میں مشغول ہونا اور اس کے اوپر شہید اور شہادت کا لفظ چسپاں کرنا کسی بھی حال میں مسلمانوں کی فلاح و نجات کا سبب نہیں بن سکتا۔ قرآن وحدیث کے دلائل اگر مسلمانوں کی آنکھ نہ کھولیں تو وہ وقت دور نہیں جب کہ اسرافیل کا صور ان کی آنکھیں کھول دے گا، اگرچہ اس وقت آنکھ کا کھلنا کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page