دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت الی اللہ انسان کو زمین پر کیوں بسایا گیا ہے اور انسان کے بارے میں خدا کا منصوبہ کیا ہے ، اس کا جواب جب ہم قرآن میں تلاش کرتے ہیں تو واضح طور پر اس کا جواب یہ ملتا ہے کہ انسان کو امتحان کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ انسانوں کو آزمائے کہ کون اچھا عمل کر نے والا ہے اور کون برا عمل کرنے والا (خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً ، الملک ۲) یہ امتحان کا معاملہ بے سنگین معاملہ ہے۔ کیوں کہ اسی امتحان کی بنیاد پر ہر ایک انسان کے لئے ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ معاملہ کی اسی سنگینی کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس کا خصوصی انتظام فرمایا کہ انسان کو خدا کے اس منصوبہ (Scheme of things) سے باخبر کیا جا سکے۔ ایک طرف خود انسان کی فطرت اس ڈھنگ پر بنائی گئی کہ وہ مذکورہ واقعہ پر ہر انسان کے لئے ایک اندرونی گواہ بن گئی۔ اسی کے ساتھ وسیع تر کائنات میں اس کا آفاقی اہتمام کیا گیا کہ پوری کائنات خاموش زبان میں اس کا مظاہرہ کرتی رہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : اسلام اور عصر حاضر، مذہب اور جدید چیلنج) دوسری طرف یہ غیر معمولی انتظام کیا گیا کہ خدا نے انسانوں میں سے اپنے پیغمبر چنے۔ ان کو فرشتہ کے ذریعہ براہ راست حقیقت کا علم دیا۔ اور انہیں مامور کیا کہ وہ انسان کی قابل فہم زبان میں اعلان کر کے اس کو پوری طرح اس تخلیقی صورت حال سے باخبر کر دیں۔ وہ اللہ کی نشا کو اللہ کے بندوں کے لئے ایک معلوم چیز بنا دیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر اٹھے، ان سب کا مشترک مشن یہی تھا۔ ہر ایک کی یہی اصل ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے دور کے انسانوں کو اس منصوبہ الہی سے باخبر کر دے تاکہ آخرت میں کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ رہے کہ اس کو حقیقت حال کا علم نہ تھا : رسلا مبشرین و منذرين لعل اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے يكون للناس علی الله حجّة بعد والے بن کر بھیجا تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس الرسل ( النساء ۱۶۵ ) اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader