دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائم بم ایک عمارت کے بارے میں آپ کے علم میں یہ بات آتی ہے کہ وہاں ٹائم بم رکھا ہوا ہے۔ اور وہ صرف پانچ منٹ کے بعد پھٹنے والا ہے۔ اس وقت آپ کیا کریں گے۔ آپ کی پہلی کوشش یہ ہوگی کہ عمارت کے اندر جو لوگ ہیں، انہیں اس سنگین حقیقت سے باخبر کریں۔ اس وقت ہر دوسری بات آپ کے لئے غیر اھم بن جائے گی، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی زیادہ ضروری معلوم ہوتی ہو۔ یہی معاملہ موجودہ دنیا کا ہے۔ موجودہ دنیا پوری کی پوری ایک خدائی ٹائم بم پر کھڑی ہوئی ہے۔ یہ ٹائم بم قیامت ہے۔ قیامت بلاشبہ بہت ترین لمحہ ہے جو انسان کے اوپر آنے والا ہے۔ اس کا آنا یقینی ہے۔ وہ کسی بھی وقت آسکتی ہے ۔ مگر اس کے وقت کا حقیقی علم صرف خدا کو ہے۔ قیامت کا یہ معاملہ اس کو انسان کے لئے سب سے زیادہ نازک اور سب سے زیادہ سنگین مسئلہ بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد ضروری ہو جاتا ہے کہ انسان اس کے بارے میں سب سے زیادہ جانے ، کیوں کہ اس سے بڑا کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ اس کے بارے میں سب سے زیادہ چوکس رہے، کیوں کہ وہ کسی بھی لمحہ ایک عظیم بھونچال کی صورت میں اس کے اوپر پھٹ پڑے گی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں داعی کو منذر اور دعوت کو انداز سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی آنے والے ہولناک دن سے ہوشیار کرنا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں احادیث میں آتا ہے کہ جب آپ لوگوں کے سامنے خطبہ کے لئے کھڑے ہوتے اور اس آنے والے لمحہ کا ذکر فرماتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے آپ لوگوں کو کسی اچانک ہونے والے فوجی حملہ سے ڈرا رہے ہیں (کانه منذر جییش) اس معاملہ میں آپ کا طرز کلام کیا ہوتا تھا، اس کا اندازہ آپ کی اس تقریر سے ہوتا ہے ۔ جو آپ نے قم فـانذر (المدثر ۲) کا قرآنی حکم ملنے کے بعد مکہ کے قریب صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر فرمائی تھی : قال البخاری حدثنا محمد سلام حدثنا ابو معاويـة حدثنا الاعمش عن عمرو بن مرة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج الى البطحاء فصعد الجبل فنادی یا صباحاه فاجتمعت اليه قريش فقال: آرأيتم ان حدثتكم ان العدو مصبحكم او ممسيكم اكنتم تصدقونی . قالوا نعم ۔ قال فانی نذیر لکم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader