Urdu book · دین کامل

دعوت الی اللہ

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

بين يدى عذاب شديد - فقام ابولهب ينفض بيديه وهو يقول - تبّالك سائر اليوم أ لهذا جمعتنا - حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر وادی بطحا کی طرف گئے۔ پہاڑی کے اوپر چڑھ کر آپ نے پکارا کہ ہائے صبح کا خطرہ۔ پس قریش آپ کے پاس جمع ہو گئے۔ آپ نے کہا کہ اگر میں بتاؤں کہ دشمن تمہارے اوپر صبح یا شام کو لوٹ پڑنے والا ہے تو کیا تم مانو گے۔ لوگوں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا ، میں تم کو آنے والے ایک سخت عذاب سے ڈراتا ہوں۔ ابولہب یہ سن کر ہاتھ جھاڑتا ہوا اٹھا، وہ کہہ رہا تھا: سارے دن تمہارا برا ہو۔ کیا تم نے اسی کے لئے ہم کو بلایا تھا۔ یہ مکی دور کی تقریر رہے۔ مگر مدنی دور میں پہنچ کر بھی آپ کا طرزِ خطاب یہی تھا۔ ابن ہشام نے اپنی سیرت (الجزء الثانی ، صفحہ ۱۱۸) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ پہلا خطبہ نقل کیا ہے جو آپ نے مدینہ پہنچ کر لوگوں کے سامنے دیا تھا۔ اس پورے خطبہ میں آخرت سے انذار کا وہی انداز ہے جو آپ نے مکہ میں اختیار فرمایا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ جس انسان کو اس کا ادراک ہو جائے ، اس کو دوسرے تمام مسائل بالکل ہیچ معلوم ہوں گے۔ ہر دوسرا مسئلہ خواہ بظاہر وہ کتنا ہی بڑا دکھائی دیتا ہو ، اس کی نظر میں بالکل بے حقیقت ہو کر رہ جائے گا۔۔۔ یہی پیغمبر کا معاملہ ہوتا ہے۔ وہ آخرت کو براہ راست دیکھ رہا ہوتا ہے ، اس لئے آخرت اس کی نظر میں وہ سب سے بڑی چیز بن جاتی ہے جس سے وہ لوگوں کو آگاہ کرے۔ اسی انتباہ سے اس کے مشن کا آغاز ہوتا ہے اور اسی پر اس کا اختتام بھی۔ ختم نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری نبی تھے۔ آپ کے بعد دین ہمیشہ کے لئے محفوظ اور مکمل ہو چکا ہے ، اب قیامت تک کوئی نبی آنے والا نہیں۔ اسی عقیدہ کا نام ختم نبوت ہے۔ ختم نبوت ، سادہ طور پر ، صرف فہرست نبوت کے ختم ہونے کا نام نہیں۔ یہ دراصل پیغمبرانہ ذمہ داری کی نئی نوعیت کو بتاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس خدائی پیغام رسانی کا کام پہلے پیغمبر کی سطح پر ہوتا تھا ، اب اس پیغام رسانی کا تسلسل امتِ پیغمبری کی سطح پر جاری ہے۔ ختم نبوت کے عقیدہ کا اصل مطلب امتِ محمدی کے اعتبار سے یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد وہ مقام نبوت پر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page