دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
اب اس کو وہ دعوتی کام انجام دینا ہے جس کے لئے اس سے پہلے پیغمبر آیا کرتے تھے۔ موجودہ مسلمانوں نے ختم نبوت کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ کوئی دیوانہ آدمی اگر نہی ہونے کا دعویٰ کرے تو فوراً اُس سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو جائیں یا کم از کم اس کے ساتھ مناظرہ بازی کا اکھاڑا قائم کردیں۔ مگر اس قسم کی بحثوں اور جھگڑوں کا ختم نبوت کے عقیدہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ۔ ختم نبوت کا عقیدہ مسلمانوں پر اصلاً جو ذمہ داری ڈالتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ تمام اقوام کو اپنا مدعو سمجھیں ۔ اور ان کو دین محمدی سے باہر کرنے کے لئے اپنی تمام طاقت خرچ کردیں۔ کسی شخص یا گروہ کو منکر ختم نبوت قرار دے کر اس سے لڑنا کسی بھی درجہ میں وہ کام نہیں جو ختم نبوت کے عقیدہ کی رو سے مسلمانوں کے سپرد کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ مسلمانوں سے ہر قسم کی لڑائی ختم کرنے کا تقاضا کرتا ہے، تاکہ مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان معتدل فضا قائم ہو اور ان کو خدا کے دین رحمت کا مخاطب بنایا جاسکے۔ دنیا کی نظر میں ان کی تصویر یہ ہونی چاہئے کہ وہ دین رحمت کے حامل ہیں ، نہ یہ کہ وہ ایک جھگڑالو اور دہشت پسند قوم ہیں۔ اس تصویر کو برقرار رکھنے کے لئے اگر انہیں اپنے جائز حقوق کی قربانی دینی پڑے تو اس سے بھی انہیں گریز نہیں کرنا چاہئے ۔ ایک سوال رسول اور اصحاب رسول کے حالات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انھوں نے اپنے ابتدائی دور میں لمبے عرصے تک خالص انذار و تبشیر کے انداز میں کام کیا۔ مگر بعد کے دور میں وہ جنگ اور فتح کے میدان میں مشغول نظر آتے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں چیزوں میں کیا مطابقت ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان دونوں دوروں میں آغاز اور تکمیل کی نسبت ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ دونوں دوروں میں حقیقت اور اضافت کی نسبت ہے۔ یعنی اصل منصب رسالت کے اعتبار سے آپ کا حقیقی کام وہی تھا جو آپ نے منذر اور مبشر کی حیثیت سے انجام دیا۔ اور دوسرا کام جو رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ انجام پایا وہ آپ کی حیثیت رسالت کا اضافی جزو تھا۔ یعنی وہ دوسرے اسباب کے تحت آپ کے کارِ رسالت میں شامل ہوا نہ کہ نفس منصب رسالت کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader