Urdu book · دین کامل

دعوت الی اللہ

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

حیثیت سے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن وہی تھا جو تمام دوسرے پیغمبروں کا مشن تھا۔ آپ کو بھی وہی دین توحید دیا گیا جو دوسرے تمام پیغمبروں کو دیا گیا تھا (الشوریٰ ۱۳) اس دین کا اعلان و ابلاغ وہ اصل منصبی کام تھا جس پر آپ بحیثیت رسول مامور کئے گئے تھے۔ قرآن میں ایک مقام پر مختلف پیغمبروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، پس تم بھی انھیں کے طریقے کی پیروی کرو ( فبهداهم اقتده ، الانعام ۹۱ ) جب تمام پیغمبر (بشمول پیغمبر اسلام) سب کا مشن ایک تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن بھی وہی قرار دیا جائے گا جو تمام پیغمبروں کے یہاں یکساں اور مشترک طور پر پایا جاتے۔ اس کے بعد اگر کوئی ایسی مختلف چیز ہے جو آپ کے یہاں ملتی ہے اور دوسروں کے یہاں وہ موجود نہیں ، تو یہ چیز آپ کی حیثیت رسالت کا اضافی جزو قرار پائے گی نہ کہ آپ کی حیثیت رسالت کا حقیقی جزو۔ " جنگ وقتال" کا معاملہ اسی اضافی جزو سے تعلق رکھتا ہے جو قرآن کے مطابق "فتنہ" کے خاتمہ کے لئے لایا گیا۔ یہ کوئی مستقل عمل نہ تھا ، وہ ایک وقتی عمل تھا جس کا جواز خود فریقِ ثانی نے اپنی جارحیت کے ذریعہ فراہم کیا، اور جو اللہ کی خصوصی مدد سے صحابہ و تابعین کے زمانہ میں اپنے تکمیلی مرحلہ تک پہنچ گیا۔ فتنہ کا استیصال قرآن میں دو مقام پر معمولی فرق کے ساتھ یہ آیت آئی ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله (اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لئے ہو جائے) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے زمانہ میں جو جنگیں پیش آئیں ، ان کی حیثیت کیا تھی ، وہ حقیقۃ جنگ نہیں تھی بلکہ اس کی حیثیت ایک قسم کی فوجی کارروائی (Military operation) کی تھی جس کا مقصد خدا کی دنیا سے "فتنہ" کو ختم کرنا تھا۔ یہ فتنہ ختم ہوگیا، اس لئے اب اس قسم کی جنگ یا فوجی کارروائی کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی تشریح سے واضح ہوتا ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page