دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
عن نافع عن ابن عمر قال اتاه رجلان نافع عبد الله بن عمر کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کے فی فتنة ابن الزبير فقال . ان الناس پاس ابن زبیر کے فتنے کے زمانہ میں دو آدمی آئے۔ ضيعوا وانت ابن عمر و صاحب النبی انھوں نے کہا کہ لوگ ضائع ہو رہے ہیں۔ اور آپ عمر کے صلی اللہ علیہ وسلم فما يمنعك ان تخرج صاحبزادے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فقال يمنعنى ان الله حرم دم اخی۔ ساتھی ہیں۔ پھر آپ کو کیا چیز روک رہی ہے کہ آپ قال ، الم يقتل الله (و قاتلوهم حتى نکلیں۔ عبد اللہ بن عمر نے کہا مجھے یہ چیز روک رہی لا تكون فتنة ) ، فقال ، فقاتلانا حتى ہے کہ اللہ نے میرے بھائی کے خون کو حرام قرار دیا ہے۔ لم تكن فتنة وكان الدين لله وانتم انھوں نے کہا کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ ان سے تريدون ان تقاتلوا حتى تكون فتنة لڑو یہیں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ عبد اللہ بن عمر وحتی يكون الدين لغير الله (تفسير ابن كثير، نے کہا۔ ہم لڑے سے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہا اور الجزء الاول ، صفحہ ۲۲۷ ) دین اللہ کے لئے ہوگیا۔ اور تم چاہتے ہو کہ لڑو یہیں تک کہ فتنہ نہ دوبارہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لئے ہو جائے۔ فتنہ کے لفظی معنی وہی ہیں جس کو انگریزی میں Persecution کہتے ہیں۔ اس سے مراد در اصل وہ سیاسی جبیر ہے جو قدیم طرز کی بادشاہت کے تحت ساری دنیا میں قائم تھا۔ مطلق بادشاہت کا دور تھا۔ بادشاہوں کے لئے خدائی اختیارات فرض کر لئے گئے تھے۔ (Empirical absolutism) بادشاہوں کو حق تھا کہ وہ جو چاہیں کریں۔ ان سے ان کے عمل کی باز پرس نہیں کی جاسکتی۔ اس زمانہ میں یہ سیاسی عقیدہ بن گیا تھا کہ بادشاہ ہمیشہ صحیح ہوتا ہے، وہ کبھی غلطی نہیں کر سکتا : The king can do no wrong. اس اصول نے بادشاہ کو اپنی رعایا پر مطلق اختیار دے دیا تھا۔ اس کی وجہ سے سماج میں دو طبقے بن گئے تھے۔ ایک بادشاہوں کا اور دوسرا رعایا کا۔ اس جابرانہ نظام کے تحت جو برائیاں پیدا ہوئیں ان میں سنگین ترین برائی یہ تھی کہ دین توحید کی تبلیغ نا ممکن ہوگئی تھی۔ کیوں کہ توحید کا مطلب یہ ہے کہ ایک خدا کے سوا سارے لوگ برابر ہیں۔ کسی کو کسی کے اوپر مطلق اختیار حاصل نہیں۔ توحید کے اس پیغام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader