دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
میں قدیم شاہی نظام کی نفی ہوتی تھی۔ اس لئے وہ لوگ توحید کے دائیوں کو اپنی سیاسی طاقت سے کچل دیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو توحید کی دعوت کے ساتھ ایک مزید مشن یہ سپر د کیا گیا کہ وہ سیاسی جبر (قدیم طرز کی بادشاہت) کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیں تاکہ دعوت توحید کی راہ کی رکاوٹیں ختم ہو جائیں اور دنیا میں توحید اور انسانی برادری کا دور لاناممکن ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو عظیم ترین شہنشاہتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک ایرانی (ساسانی) سلطنت ، اور دوسرے رومی (باز نطینی) سلطنت۔ یہ دونوں سلطنتیں قدیم آباد دنیا کے بیشتر حصہ پر قابض تھیں اور قدیم طرز کی جابرانہ بادشاہت کی طاقت اور نمائندہ بنی ہوئی تھیں۔ ان کا باقی رہناقدیم بادشاہت کے باقی رہنے کے ہم معنی تھا، اور ان کا ٹوٹناقدیم بادشاہت کے ٹوٹنے کے ہم معنی۔ رسول اور اصحاب رسول نے اپنی غیر معمولی قربانیوں کے ذریعہ ان شاہی نظاموں کو توڑ دیا۔ ان کا یہ عمل معروف معنوں میں ملک گیری کا عمل نہ تھا، بلکہ وہ ایک قسم کا خدائی آپریشن تھا جو بہترین اور موزوں ترین افراد کے ذریعہ کیاگیا۔ آزادی اور مساوات اور جمہوریت کا موجودہ دور تمام تر اسی انقلاب کی پیداوار ہے۔ صحابہ کرام نے اگر قدیم نظام جبر کو توڑانہ ہوتا تو انسان پر وجود آزادی کا دور بھی نہ آتا۔ موجودہ زمانہ کے مغربی مورخین نے اس واقعہ کو تسلیم کیا ہے۔ خاص طور پر فرانسیسی مورخ ہنری پرین (Henri Pirenne) نے اس کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ اس کی تحقیقات نے اس نقطہ نظر کو ایک مستقل تاریخی مکتب فکر کی حیثیت دے دی ہے۔ اس سلسلہ میں اس کی دو کتابیں قابل مطالعہ ہیں: تاریخ یورپ (History of Europe) اور محمد اور شارلیمان (Mohammad (and Charlemagne اول الذکر کتاب میں اس نے یہ تاریخی نظریہ پیش کیا ہے کہ قدیم اور جدید دنیا کے درمیان بنیادی انفصال (Essential break) در حقیقت عرب فتوحات کے ذریعہ پیش آیا (13/155-EB) اس سلسلہ میں اس نے یہ الفاظ لکھے ہیں کہ اسلام نے زمین کی صورت کو بدل دیا۔ تاریخ کار وایتی نظام بالکل توڑ پھوڑ ڈالا گیا : Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown (p.46).

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader