دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عبد اللہ بن عمر کا جو قول اوپر نقل کیا گیا ، وہ اس معاملہ کی نہایت عمدہ تشریح کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی آیت فتنہ کا تعلق فتہُ مسلم سے نہ تھا بلکہ فتنہ مشرک تھا۔ اس کا مقصد قدیم سیاسی جبر کے نظام کو ختم کرنا تھا، اور وہ اللہ کی مدد سے ختم ہو گیا۔ اس کے بعد دعوت توحید یا اقامت حریت کی راہ میں وہ رکاوٹ باقی نہ رہی، جو قدیم نظام کے تحت ساری دنیا میں پائی جاتی تھی۔ اب اگر اس کو مسلم حکمرانوں تک وسیع کیا جائے اور مسلم حکمرانوں کے بگاڑ پر فتنہ کا اطلاق کر کے ان کے خلاف بغاوت کی جائے یا ان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی ہم چلائی جائے تو یہ دوبارہ ایک نے’فتنہ کا دروازہ کھولنے کے ہم معنی بن جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ حکمران غیر ضروری طور پر اسلامی دعوت کو اپنا سیاسی حریف سمجھ لیں گے اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے اسلامی دعوت کو کچلنا شروع کر دیں گے۔ اس طرح جو فتنہ ختم ہو چکا تھا ، غیر ضروری طور پر از سر نو اس کا آغاز ہو جائے گا۔ تاریخ کا پردہ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن وہی تھا جو تمام نبیوں کا تھا ، یعنی دعوت الی اللہ ۔ دعوت کو انجام حجت تک پہنچا دینے کے بعد آپ کے اس مشن کی تکمیل ہو گئی جو پیغمبر کی حیثیت سے آپ کے اوپر عائد ہوتا تھا۔ اس کے بعد جنگ اور فتوحات کی صورت میں جو واقعہ پیش کیا وہ آپ کے مشن کا اضافی جزء ، (Relative part) تھا نہ کہ حقیقی جز، (Real part) یہ دوسرا حصہ ہجرت مدینہ سے شروع ہوا۔ اور اس کے بعد صحابہ کرام کے دور آخر تک جاری رہا۔ آپ کے مشن کے اس جز کے تحت اولا عرب اور اس کے بعد ایشیا اور افریقہ کے بیشتر حصے فتح ہوئے۔ ایران اور روم کی سلطنتیں ختم ہو گئیں۔ یہ سیاسی اور جنگی واقعات بعد کے لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ چھائے کہ وہی ان کے فکر پر غالب آگئے حتیٰ کہ وہ بھول گئے کہ یہ عمل منصب رسالت کا اضافی پہلو تھا ، وہ منصب رسالت کا حقیقی پہلو نہ تھا۔ چنانچہ بعد کے دور میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا وہ تقریباً سب کا سب اسی واقعہ سے متاثر نظر آتا ہے۔ مثلاً حدیث کو لیجئے ۔ حدیث کی تدوین و ترتیب زیادہ تر تبع تابعین کے زمانے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader